menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dunya Ka Sab Se Pyara Bacha

14 17
28.12.2025

موت زندگی کا وہ آخری دروازہ ہے جس سے ہر ذی روح نے گزرنا ہے۔ یہ جسم سے روح کی وہ ابدی جدائی ہے جس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ موت انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کی ہر چیز عارضی ہے۔ جب کوئی عزیز موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے، تو زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے وقت بھی مشکل سے ہی بھر پاتا ہے۔ مذہبِ اسلام میں موت کو ایک نئے سفر کا آغاز اور خالقِ حقیقی سے ملنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جو سوگواروں کے لیے تسلی کا باعث بنتا ہے۔

ہر قریبی عزیز کی موت اک تکلیف دہ سانحہ ہوتی ہے لیکن بیٹے کی موت ایک ایسا جان لیوا صدمہ ہے جس کا مداوا لفظوں میں ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا دکھ ہے جو والدین کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کی زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والا خلا پیدا کر دیتا ہے۔ بیٹا فقط ایک نام یا رشتہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ والدین کے خوابوں کا امین، ان کے مستقبل کی امید اور ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔ اس کے بچپن کی شرارتوں سے لے کر جوانی کے ولولوں تک، ہر لمحہ ایک خوبصورت داستان کی طرح والدین کے دل پر کندہ ہوتا ہے۔ جب وہی بیٹا آنکھوں کے سامنے سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو جائے، تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی ساری روشنیاں گل ہوگئی ہوں۔

بیٹے کا جنازہ اٹھانا باپ کے لیے دنیا کا سب سے بھاری بوجھ ہے۔ وہ کندھے جو اسے دنیا کی سیر کرانے کے لیے تھے، اب اسے منوں مٹی تلے دبانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت ماں کی ممتا جس کرب سے گزرتی ہے، اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ تہی دامن ہیں۔ گھر کا وہ کمرہ جو اس کے قہقہوں سے گونجتا تھا، اب ایک بھیانک خاموشی کا مسکن بن جاتا ہے۔ اس کے کپڑے، اس کی کتابیں اور اس کی یادیں ہر پل یہ احساس دلاتی ہیں کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق، اولاد کی موت ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیمؑ کی وفات پر آنسو بہائے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کا غم فطری ہے اور رونا بے صبری نہیں بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان والدین کے لیے جنت میں "بیت الحمد" (تعریف کا گھر) بنانے کا وعدہ کیا ہے جو اس عظیم صدمے پر صبر کرتے ہیں اور "انا للہِ وانا الیہِ راجعون" پڑھتے ہیں۔

بیٹے کی جدائی کا زخم کبھی نہیں بھرتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ یادوں کی ایک ایسی میٹھی کسک بن جاتا ہے جو والدین کو آخرت میں دوبارہ ملنے کی امید دلائے رکھتی ہے۔ زندگی کے ان مشکل مراحل میں صبر و رضا کا دامن تھامے رکھنا ہی انسان کو ذہنی اور روحانی سکون فراہم کر سکتا ہے۔ وہ صبر جو کربلا والوں نے زمانے کو سکھایا، وہ رضا جو کریمِ کربلاؑ، نواسہِ رسول ﷺ امامِ عالی مقامؑ، فخرِ خلیلؑ،........

© Daily Urdu (Blogs)