menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wali Ullah (6)

11 2
22.01.2026

اگلے دن فجر کے بعد محلے میں ایک خاص سی گہما گہمی تھی۔ آج ہمارے پڑوس میں گیارہویں شریف کا اہتمام تھا کیونکہ سال میں ایک بار گیارہویں کا خاص محلے میں اہتمام ہوتا تھا۔ سبز چادریں، دیگچوں کی کھنک اور لاؤڈ اسپیکر پر ہلکی ہلکی نعتیں فضا میں گھلی ہوئی تھیں۔ میں خاموشی سے تیار ہو کر دکان کی طرف جانے ہی والا تھا کہ ابو نے آواز دی، "ضرغام، ذرا رکنا۔ ختم شریف کے بعد دکان پہ چلے جانا"۔ میں نے بحث سے بچنے کی خاطر سر ہلا دیا۔

ظہر کے بعد ختم شریف کا اختتام ہوا تو محلے کے پانچ چھے بزرگ، میرے ابو، چچا، تایا ابو، ان کے بیٹے، میرا بھائی اور دو تین پڑوسی سب ایک بڑے صحن میں دری بچھا کر بیٹھ گئے۔ چائے کا دور چلا۔ باتیں عام تھیں، مہنگائی، سیاست، بچوں کی تعلیم، کاروبار۔ اچانک تایا ابو نے گلا صاف کیا اور طنزیہ انداز میں بولے: "ویسے آج کل ایک نئی بیماری پھیل رہی ہے۔ جو ذرا پڑھ لکھ جائے نا، وہ ولیوں کا منکر ہو جاتا ہے"۔ انہوں نے میری طرف دیکھا۔ "کیوں ضرغام؟ سنا ہے تم اب اولیاء کو بھی نہیں مانتے؟"

فضا یکدم بوجھل ہوگئی۔ ابو نے ہلکا سا کھنکارا، بھائی نے نظریں چرا لیں۔ میں نے سکون سے کہا: "تایا ابو، ماننے اور نہ ماننے کی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم مان کیا رہے ہیں اور کس دلیل سے مان رہے ہیں"۔ ایک پڑوسی فوراً بول اٹھا: "دیکھو جی، اولیاء اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے۔ ان کا انکار کرنا ہی گمراہی ہے"۔ میں نے سر ہلایا۔ "بالکل درست، قرآن میں اولیاء اللہ کا ذکر ہے۔ مگر پہلے یہ دیکھ لیں کہ قرآن اولیاء کی تعریف کیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون، الذين امنوا وكانوا يتقون" (یونس: 62-63) یعنی اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا"۔

میں نے بات جاری رکھی: "یہاں کہیں نہیں کہا گیا کہ اولیاء وہ ہیں جن سے مانگا جائے، جنہیں پکارا جائے، یا جن کی قبروں پر جا کر فریاد کی جائے جن کے دربار بنائے جائیں"۔ تایا ابو کے بیٹے فوراً بولے: "تو کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ سارے بزرگ غلط تھے؟ داتا صاحب، غوث پاک، خواجہ صاحب؟ سب نعوذ باللہ؟" میں نے وضاحت کی: "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اللہ کے نیک بندے نہیں تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اللہ سورہ الفرقان 63-68 میں مومنوں کی صفات میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے۔

ایک بزرگ نے اعتراض کیا: "ہم اللہ ہی سے مانگتے ہیں، ولیوں کو تو بس وسیلہ بناتے ہیں"۔ میں نے آہستہ مگر واضح لہجے میں کہا: "اللہ تعالیٰ اس منطق کو خود رد کرتا ہے۔ فرمایا: "والذين اتخذوا من دونه اولياء ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى" (الزمر: 3) وہ لوگ کہتے تھے ہم انہیں صرف اس لیے پکارتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ اللہ نے اسے شرک قرار دیا"۔

محلے کے ایک اور آدمی، جنہیں سب مولوی صاحب کہتے تھے، بول اٹھے۔ "بیٹا، تم صرف آیات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہو۔ شریعت میں استغاثہ، توسل، نذر و نیاز جائز ہے۔ امام احمد رضا خانؒ نے "حدائق بخشش" میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں، حاضر و ناظر ہیں اور اولیاء بھی اپنی قبور میں زندہ ہیں۔ ان سے مدد مانگنا شرک نہیں، کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ کیا تم حضور ﷺ کے وجودِ مبارک کے حاضر و ناظر ہونے کا انکار کرتے ہو؟

یہ ایک شدید الزام تھا۔ میں نے سکون سے جواب دیا: "مولوی صاحب، حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ قرآن و........

© Daily Urdu (Blogs)