Dakiya Aur Jolaha
مستنصر حسین تارڑ صاحب کے بارے میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ سفرنامہ نگار ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ان کے قلم سے اچھے سفرناموں کے ساتھ ساتھ بڑے ناولز بھی لکھے گئے ہیں۔ "ڈاکیا اور جولاہا" بھی ایک ایسا ہی پر اثر، گہرا، تخلیقی اور ادبی لحاظ سے ایک بڑا ناول ہے۔
یہ محبت کی ایک انوکھی داستان ہے جو کے اپنے اندر روحانیت، مغربیت، اشتراکیت اور کھوکلی مذہبیت کا عجب امتزاج رکھتی ہے۔ اس ناول میں گاؤں کے خالص ماحول کو بہت بہترین منظر نگاری کی گئی ہے۔ پھر کچھ اہم کردار جیسے کہ نائی، میراثی اور جولاہا وغیرہ کو بھی بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
جب بندہ پہلی بار یہ ناول پڑھتا ہے تو اس کو اس میں ایک بے ربط محسوس ہوتا ہے اور اس کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ کچھ ایسی ہی مشکل کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا تو فیس بک پر موجود اہل علم سے مدد لی جس........
