menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ghulam Zehan, Azad Qafas Aur Ashraf Ul Makhlooqat

10 1
yesterday

آج انسان کے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر نہیں، ایک گہری شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ یہ احساس اس وقت اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب ابنِ خلدون جیسے عہد ساز مفکر کی بات پڑھنے کو ملے، جو صدیوں پہلے انسانی سماج کی نفسیات کو اس قدر عریاں کر چکا تھا کہ آج کا انسان بھی اس کے آئینے میں خود کو پہچاننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ جملہ محض ایک خیال نہیں، بلکہ پوری انسانیت پر فردِ جرم ہے کہ پرندے کا دماغ صرف دو گرام ہوتا ہے، مگر وہ آزادی کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ کچھ انسانوں کے سر کا وزن کئی کلو ہوتا ہے اور وہ ذلت اور غلامی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔

یہ تقابل عقل کے حجم اور سوچ کی سمت کے درمیان ہے۔ آزادی کسی بڑے دماغ کی محتاج نہیں، بلکہ ایک زندہ شعور کی متقاضی ہوتی ہے۔ پرندہ پنجرے میں ہو تب بھی اس کے پروں میں بغاوت زندہ رہتی ہے، مگر انسان کھلے میدان میں کھڑا ہو کر بھی غلامی کو اختیار........

© Daily Urdu (Blogs)