menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Riaz Par Dhuen Ke Badal

19 0
previous day

ریاض پر دھوئیں کے بادل

گزشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب اور آرامکو کے فیول ڈپو پر پیش آنے والا واقعہ اور فضا میں اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کے بادل مقامی نوعیت کی تخریب کاری یا کوئی حادثاتی دھماکے نہیں تھے، بلکہ مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن سیکیورٹی بحران کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ جب دارالحکومت ریاض کے مکینوں نے آدھی رات کے سسکتے ہوئے سکون میں سائرن کی ہولناک آوازیں، فضائی دفاعی نظام کی گرج چمک اور دور دراز دھماکوں کے گہرے اثرات محسوس کیے، تو ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ دنیا کے اس حساس ترین خطے میں امن کے نعرے عارضی ہیں۔ یہ حملہ براہ راست عالمی توانائی کی سپلائی لائنز، بین الاقوامی ہوابازی اور خطے کے اقتصادی حب پر ایک گہرا وار ہے جس نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

​اس لرزہ خیز اور اشتعال انگیز کارروائی کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے بلاجھجھک قبول کی ہے اور فخر کے ساتھ ریاض اور ینبع جیسے اہم صنعتی اور شہری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ڈھٹائی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان عناصر کو کس طرح کی بیرونی سرپرستی حاصل ہے جو خلیجی امن کو مستقل طور پر سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف، سعودی عرب کے عسکری اتحاد اور فضائی دفاعی نظام نے اپنی روایتی مستعدی، پیشہ ورانہ مہارت اور پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت جوابی........

© Daily Urdu (Blogs)