menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imran Khan: Besakhiyon Se Tanhai Tak (3)

24 0
04.11.2026

عمران خان: بیساکھیوں سے تنہائی تک (3)

عمران خان کی سیاسی بصیرت کا اصل امتحان اپریل 2022ء میں شروع ہوا۔ اس سے پہلے وہ تقریباً ہر بڑے سیاسی موڑ پر کسی نہ کسی طاقتور سہارے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تھے، لیکن جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی وزارت عظمیٰ ختم ہوئی اور اسٹیبلشمنٹ نے ان سے ہاتھ اٹھا لیا تو پہلی مرتبہ انہیں اپنے فیصلے اپنی سیاسی سمجھ بوجھ سے کرنے پڑے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ان کی سیاسی بصیرت کا امتحان شروع ہوا اور انہوں نے ایک کے بعد ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے انہیں اقتدار سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی تنہا کر دیا۔

تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کے پاس پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں موجود تھیں۔ ان کے پاس دو صوبوں میں اقتدار تھا، اسمبلیاں ان کے پاس تھیں، ایک بڑی عوامی قوت ان کے ساتھ تھی اور سب سے بڑھ کر انہیں عوامی ہمدردی بھی حاصل ہو رہی تھی۔ ایک سمجھ دار سیاست دان اس موقع کو اپنے لیے سیاسی بحالی کا راستہ بناتا۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ دونوں صوبوں میں بیٹھتے، گورننس بہتر کرتے، عوام کو ریلیف دیتے، پارٹی کو منظم کرتے، اپنے سابق اتحادیوں سے رابطے بحال کرتے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی مذاکرات کے دروازے بند نہ کرتے۔ وہ وفاقی حکومت کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر چیلنج کرتے اور اگلے انتخابات کی تیاری کرتے، لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس راستہ اختیار کیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اپنی حکومتیں ختم کر دیں، اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور استعفوں کی سیاست شروع کر دی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اس فیصلے سے ملک میں انتخابات کی راہ ہموار ہوگی اور وفاقی حکومت چند دنوں میں گھٹنے ٹیک دے گی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ان کے ہاتھ سے دو صوبوں کا اقتدار بھی نکل گیا اور سیاسی بحران بھی ختم نہ ہوا۔

اس کے بعد 9 مئی کا واقعہ پیش آیا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا، وہ تحریک انصاف کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوا۔ فوجی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے ہوئے، ریاستی اداروں کے خلاف پرتشدد احتجاج سامنے آیا اور تحریک انصاف ایک ایسے بحران میں داخل ہوگئی جس سے نکلنے کے لیے اسے کئی برس درکار ہو سکتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کے ساتھ عمران خان کے سابقہ تعلقات اور مبینہ مشاورت کے حوالے سے بھی سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھتے رہے، 9 مئی کے بعد جو سیاسی نتائج سامنے آئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عمران خان جیل پہنچے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی مقدمات اور گرفتاریوں کی زد میں آئیں، پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتار ہوئی، کئی اہم رہنماؤں نے تحریک انصاف چھوڑ دی اور پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہوگئی۔ گویا عمران خان نے پہلے وزارت عظمیٰ کھوئی، پھر دو صوبائی حکومتیں گنوائیں، پھر پارٹی کی مرکزی قیادت کو جیلوں میں پہنچایا اور آخرکار اپنی جماعت کو انتخابی نشان سے بھی محروم کروا بیٹھے۔

یہاں ایک دلچسپ پہلو بھی ہے۔ 2024ء کے انتخابات میں عمران خان جیل میں تھے، تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے تھے، اس کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے۔ یہ عمران خان کی عوامی مقبولیت کا ثبوت تھا۔ لیکن سیاست صرف ووٹ حاصل کرنے کا نام نہیں، سیاست اس ووٹ کو اقتدار، طاقت اور سیاسی استحکام میں تبدیل کرنے کا نام بھی ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عمران خان کے پاس ایک مرتبہ پھر ایک بڑا موقع موجود تھا۔

انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی گنجائش اور دعوت کا معاملہ سامنے آیا۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے........

© Daily Urdu (Blogs)