Johri Tawazun, China Pakistan Difai Ishtirak Aur Bharti Bechaini
عالمی طاقتوں کے مابین تزویراتی برتری کی کشمکش ایک نئے موڑ میں داخل ہو چکی ہے جہاں جوہری بازوؤں کی دوڑ، دفاعی شراکت داریوں کی نئی صورتیں اور علاقائی خدشات بیک وقت مستقبل کی سلامتی کے خدوخال مرتب کر رہے ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کی حالیہ رپورٹ جسے کانگریس میں "چین میں ملٹری اینڈ سکیورٹی ڈیویلپمنٹس" کے عنوان سے جمع کروایا گیا اسی بدلتی ہوئی عالمی شطرنج کو بیان کرتی ہے، مگر اس انداز میں کہ اس کے ہر نکتے کے پیچھے طاقت کے غیر مرئی توازن، سفارتی امکانات اور عسکری نفسیات کی پوری داستان سمٹی محسوس ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت میں غیر معمولی پیش رفت دکھا رہا ہے بلکہ اس نے تین نئی تعمیر شدہ تنصیبات میں ایک سو سے زائد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تعینات کرکے اپنی ارلی وارننگ اور کاؤنٹر اسٹرائیک کی قوت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ پیش رفت محض عسکری اثاثوں میں اضافہ نہیں بلکہ بیجنگ کی اس حکمتِ عملی کی علامت ہے جس کے تحت وہ مستقبل کی کسی بھی ممکنہ اسٹرائیک کے جواب میں "توازنِ خوف" کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو روایتی امریکی بیانیے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف یہ ہے کہ واشنگٹن ایسی رپورٹس کے ذریعے اپنی جوہری صلاحیت کی جدید کاری کے لیے اخلاقی جواز تراش رہا ہے اور یوں عالمی اسٹریٹجک استحکام کو خود خطرے میں ڈال رہا ہے۔ چین نے یاد دلایا کہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری ذخیرے کا مالک امریکہ ہی ہے، لہٰذا تخفیفِ اسلحہ کی ذمہ داری سب سے پہلے اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس مؤقف نے ایک بار پھر اس سوال کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا طاقتور ریاستیں واقعی عدمِ پھیلاؤ کے اصولوں پر خلوصِ نیت سے........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin