Pak Tea House, Farooq Abbasi Aur Pakistan Ka Mustaqbil
پاک ٹی ہاؤس میں سردار فاروق عباسی ایڈووکیٹ اور میں بیٹھے تھے۔ یہ اپریل 1990 کی ایک چمکیلی صبح تھی۔ اس وقت ٹی ہاؤس کی چائے اور کلب سینڈوچ بڑے مشہور ہوتے تھے۔ فاروق عباسی رشتے میں میرے ماموں لگتے تھے اور وکالت پاس کرنے کے بعد ایم اے سیاسیات بھی کر چکے تھے۔ لاہور میں طویل عرصہ قیام کے بعد وہ اب پنڈی کوچ کرنے کی تیاری کر چکے تھے۔ اسی ملاقات میں انھوں نے وائی ایم سی اے ہوسٹل کے کمرے کی چابی میرے حوالے کی، جو اسی بلڈنگ سے متصل تھا جس میں پاک ٹی ہاؤس تھا۔ گویا اب ان کے جانے کے بعد میں اس کمرے کا قانونی وارث تھا۔
فاروق عباسی نے واپس کبھی اپنے کمرے کا رخ نہیں کیا۔ اگلے چار سال تک وہ میرے تصرف میں ہی رہا تاآنکہ وائی ایم سی اے ایڈمنسٹریشن نے سب قابضین سے کمرے خالی نہیں کرا لئے۔ نوے کی دہائی میں یونیورسٹی سے فراغت کے بعد میں پنڈی میں سرکاری ملازمت اختیار کر چکا تھا۔ تاہم جب بھی لاہور کا چکر لگتا، میں ادھر ہی قیام کرتا اور اکثر صبح کا ناشتہ یا شام کا کھانا پاک ٹی ہاؤس سے ہی کھاتا۔
ٹی ہاؤس کے اندر کونے والے کاؤنٹر پر سانولے رنگ والے علیم الدین بیٹھے ہوتے۔ بل کسی روبوٹ کی طرح کاٹتے۔ فاروق عباسی جو نوے کی دہائی کے بعد کچھ سال ہی جئے، ان کی علیم الدین سے دوستی تھی۔ وہ ہمیشہ ان سے مذاق کرتے جس کے جواب میں علیم پھیکی سی ہنسی ہنس دیتے مگر زیادہ گفتگو نہ کرتے۔ میں کبھی کبھی سوچتا نہ جانے کتنے عرصے سے یہ یہاں بیٹھے ہوئے ملک کے نامور ادیبوں اور شعراء کو دیکھ اور سن رہے ہیں مگر ان کی شخصیت میں ادبی کلام نے شائید زیادہ اثر نہ ڈالا۔ ٹی ہاؤس کی فضا میں اکثر چائے پیتے ادباء کا سگریٹ یا سگار کا بل کھاتا ہوا دھواں گردش کرتا رہتا تھا۔ کاؤنڑ پہ ایک کالے رنگ کا ٹیلیفون بھی رکھا ہوتا تھا۔ جو کبھی بجتے نہیں دیکھا۔ فاروق عباسی جو خود بھی ایک دانشور تھے، اکثر علیم الدین سے جب کسی اہم ادبی شخصیت کا پوچھتے، تو علیم الدین کہتے پرسوں آئے تھے، آج نہیں........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin