menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (9)

15 1
27.12.2025

سر مونڈے جانے کے بعد مسجد الحرام میں پہنچنے کی خاطر ایک لمبا راستہ طے کرنا پڑا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ سعی کا آغاز "صفا" سے ہوتا ہے اور اختتام "مروہ" پر جبکہ مسجد الحرام میں داخل ہونے کا نزدیک ترین راستہ "صفا" کے قریب ہے۔ تلوے میں درد ہو رہا تھا لیکن عمرہ مکمل کر لینے کی مسرّت میں اس درد کا احساس کم تھا۔ راستے میں میں نے اپنے ہمرہی کا نام پوچھا تھا جو سنجیدہ اور کم گو نوجوان شخص تھا۔ اس نے اپنا نام جلیل بتایا تھا۔ جب مسجد الحرام میں داخل ہو گئے اور "کعبہ" کچھ دوری پہ دکھائی دینے لگا تو جلیل نے کہا تھا، " کیا تم نے دیکھا کہ پرندے کعبے کے گرد چکر کاٹ رہے تھے؟" میں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے استفسار کیا تھا، " کتنے پرندے تھے؟" بولا، چار تھے اور پھر اس امید پر کہ شاید پرندے "طواف" کر رہے ہوں، مجھے تھوڑا سے آگے لے جا کر دکھایا تھا۔ کعبے کے گرد چکر کاٹتے ہوئے لوگ تو موجود تھے لیکن کعبے کے گرد کوئی پرندہ گرداں نہیں تھا۔

جلیل بولا تھا کہ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ہوٹل کے لیے نکلیں گے، شاید کوئی اور ساتھی بھی مل جائے۔ ہم مسجد الحرام کی چھت پہ چڑھ گئے تھے کیونکہ نیچے کوئی جگہ خالی نہیں بچی تھی۔ اوپر سے کعبے اور مطاف میں متحرک لوگوں کو دیکھتے رہے لیکن دھوپ بہت تیز تھی۔ دھوپ کا چشمہ طواف کے دوران کھو گیا تھا۔ آنکھیں چندھیا رہی تھیں۔ میں نے جلیل سے کہا تھا کہ میں سائے میں کھڑا ہو کر انتظار کرتا ہوں۔ سامنے ہی خودکار زینے کے سامنے چھجّے تلے دو کرسیاں پڑی ہوئی تھیں اور کچھ لوگ جانماز بچھائے عبادت کر رہے تھے یا بیٹھے تھے۔ میں ایک کرسی پہ جا بیٹھا تھا اور جس پیکٹ میں چپل اور پانی کی بوتل تھی وہ سائیڈ پہ رکھ دیا تھا۔ میرے نزدیک ہی عام لباس میں ملبوس ایک لمبے تڑنگے صاحب آ کر کھڑے ہوگئے تھے جن کے ہاتھ میں پکڑے دستی بیگ پہ "دارلسلام ٹورز" لکھا ہوا تھا۔ جب ہم مدینہ سے مکہ آتے ہوئے گھوٹکی سے ملتے جلتے مقام پہ رکے تھے تو وہاں نئی اور ہماری بسوں سے بدرجہا بہتر دو بسیں آ کر رکی تھیں، جن پر اس کمپنی کے نام کے ساتھ امریکہ و کینیڈا لکھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ امریکہ سے ہیں کیا؟ وہ واقعی امریکہ کے شہر ہوسٹن سے آئے تھے اور خاصے مہذب اور تعلیم یافتہ شخص تھے۔ چونکہ وہ ان کا تعلق پاکستان سے ہی تھا، اس لیے ہم انگریزی چھوڑ کر اردو میں ہم کلام ہو گئے تھے۔ اتنے میں محافظ پولیس والوں نے "یاحجّی" کی صدا لگا کر لوگوں کو وہاں سے ہٹانا شروع........

© Daily Urdu (Blogs)