menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (12)

13 4
02.01.2026

مزدلفہ میں پہاڑیوں کی تلہٹی کے نزدیک مسطح قطعات میں ماسوائے باتھ رومز کے اور کوئی سہولت نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے مغرب اور عشاء کے فرض باجماعت ادا کیے تھے۔ ہمارا گروہ مولانا رشیت کی امامت میں خواتین کے باتھ رومز کی عمارت کے گرد بنے چبوترے پہ نماز پڑھ رہا تھا، جب کہ میدان میں بہت زیادہ لوگ کسی اور امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے میرے ساتھ کمرے میں رہنے والے ماگومید نے کہا تھا کہ یہیں چبوترے پہ سو جاتے ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا تھا کیونکہ تھوڑی ہی دور باتھ رومز کے عقبی روشندان واقع تھے۔

یہ تو شکر ہوا کہ میں نے منٰی کی دکانوں سے چین میں بنی پلاسٹک کی ایک صف خرید لی تھی، جو سکول کے بستے کی مانند تہہ ہو جاتی تھی ورنہ آج کنکروں پہ لیٹنا پڑ جاتا۔ احرام ویسے ہی میلا ہونے لگا تھا۔ میں نے تو نماز سے پہلے ہی میدان میں جا کر اغیار کے ساتھ اپنی صف سیدھی کر دی تھی۔ نماز کے بعد اس پہ جا بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک جانب سے قربان بھی آ نکلا تھا۔ قربان وہ نوجوان تھا جو مکہ پہنچتے ہی دوسرے روز عمرے کی خاطر کیے گئے طواف میں مولانا رشید کے کندھے پہ ہاتھ رکھے رمل کر رہا تھا اور جس کی اہلیہ آنسو بہا رہی تھی۔ منٰی کے خیمے میں اس کا بستر میرے ساتھ تھا اس لیے اس سے یاداللہ ہوگئی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عنائقہ تھا جو بہت خوش پوش اور سنجیدہ لڑکی تھی۔ قربان مجھ سے بیوی کے گلے کرکے اپنی بھڑاس نکال لیتا تھا۔ قربان نے بھی ساتھ ہی صف بچھا لی تھی۔

مردوں سے بیس پچیس گز کے فاصلے پر عورتوں نے سونے کے لیے میدان سنبھالا ہوا تھا جہاں رونق تھی۔ ہمیں صبح "بڑے شیطان" کو مارنے کی خاطر یہاں سے کنکر چننے تھے۔ مجموعی طور پہ ستّر کنکر چننے تھے تاکہ آئندہ دنوں میں جمرات صغیرہ، جمرات وسطٰی اور جمرات کبیرہ پہ سات سات کنکر روز برسائے جا سکیں۔ میں اور قربان کنکر چننے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک بہت بلند کھنبے پر چار سرچ لائٹسں جگمگا رہی تھیں اس لیے ہر طرف روشنی تھی۔ ایک نہر نما گہرائی میں اتر کر میں نے کچھ ہی دیر میں ستّر........

© Daily Urdu (Blogs)