menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (11)

12 1
31.12.2025

لو جی بالآخر سفر شروع ہوگیا۔ تلبیہ پڑھا جانے لگا۔ لبیک، اللہمّ لبیک، لاشریک لک لبیک۔ ان الحمد والنعمت لک ول ملک، لاشریک لک۔ تلبیہ کا ورد کرنے والے چار جوان لوگ تھے جن میں سلیم تاجک کی آواز سب سے نمایاں تھی۔ ان کے پیچھے پیچھے باقی لوگ تلبیہ دھرا رہے تھے، البتہ خواتین شاید دل میں پڑھ رہی تھیں۔ سلیم کے ساتھ میری شناسائی مدینہ میں مقامات مقدسہ دیکھنے کے دوران ہوئی تھی۔ بس میں وہ میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ بڑا ہنس مکھ آدمی تھا۔ عمر یہی کوئی بتیس چونتیس برس۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ معمار ہے، پھر بڑے فخر سے اضافہ کیا تھا کہ ماسکو میں میرے تیس آدمی کام کرتے ہیں۔

آدمی دل کھول کر خرچ کرنے والا تھا۔ جیب سے تمام کرنسی نوٹ یک لخت نکالتا تھا چاہے خرچ بیس ریال ہی کیوں نہ کرنے ہوں۔ میں نے اس کی کلاس لے لی تھی لیکن بالواسطہ، یہ مثال دے کر کہ جو شخص لوگوں کو کام دلواتا ہے۔ کام دینے والے سے کچھ اور وصول کرتا ہے اور کام کرنے والوں کو ان کے علم میں لائے بغیر ان کے لیے حاصل کردہ حق محنت سے کم ادا کرتا ہے تو وہ استحصال کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسی آمدنی کے حلال ہونے میں شک ہے۔ وہ طنز سمجھ گیا تھا اور کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا تھا کیوں کہ وہ ایسا ہی کرتا تھا اور اسی کمائی سے حج کی سعادت حاصل کرنے جا رہا تھا۔

میرا خیال تھا کہ سڑکوں پہ منٰی جانے والی بسوں کی قطاریں ہوں گی اور منٰی تک پہنچنے کا آٹھ دس کلومیٹر کا سفر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ دو گھنٹے میں طے ہوگا لیکن ہم تو اس خیمہ بستی میں آدھے گھنٹے میں ہی پہنچ گئے تھے۔ بہت سے لوگ سامان اٹھائے ہوئے پیدل چل کر بھی منٰی پہنچ رہے تھے۔ مگر ہماری بس تھی کہ چلتی ہی جا رہی تھی۔ کبھی کچھ دیر کے لیے رک جاتی تھی۔ کبھی مڑ پڑتی تھی۔ مولانا رشیت کسی سے فون پہ گفتگو کیے جا رہے تھے۔ بس کا ڈرائیور جو عرب تھا اعصابانی ہوئے جا رہا تھا۔

لوگ تلبیہ بھول چکے تھے اور پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پتہ چلا کہ ہمارے ڈرائیور کو وہ جگہ نہیں مل پا رہی جو ہمارے گروپ نمبر "اڑتالیس" کے لیے مخصوص ہے۔ مولانا کی آواز میں جھنجھلاہٹ بڑھتی چلی گئی تھی۔ ہماری شکایتوں پہ ہمیں حج کی وجہ سے صبر کی تلقین کرنے والے، جس پر ایک دفعہ میں نے بھنّا کر کہا تھا کہ آپ کمائی کیے جائیں اور میں صبر کروں، میں نہیں کروں گا، اب خود بے صبر ہو رہے تھے اور فون پہ چیختے ہوئے بالآخر کسی کو بولا تھا کہ ہم واپس ہوٹل پہنچ رہے ہیں۔

ہم کوئی تین ساڑھے تین بجے صبح اپنے ہوٹل لوٹ آئے تھے لیکن ہمیں بس سے اترنے نہیں دیا گیا تھا بلکہ فوراََ ہی کوئی گائیڈ ہمراہ کر دیا گیا تھا اور ہم آدھے گھنٹے میں منزل مقصود پر پہنچ گئے تھے۔ گدے چادریں لیتے، خیموں میں جگہ سنبھالتے، بستر بچھاتے صبح کے پانچ بج گئے تھے یعنی نماز فجر کا وقت ہوگیا تھا۔ ساتھ والے خیمے میں جو سڑک کے اس بار جنگلے کے اندر ہماری قطار کی ہماری جانب والا پہلا خیمہ تھا، اذان دی جانے لگی تھی۔

شکر ہے کہ ہم ابھی باوضو تھے۔ ہم نے رشید صاحب کی امامت میں نماز فجر پڑھی تھی اور پھر سونے کے لیے لیٹ گئے تھے۔ خیموں میں ایر کولرز کے پائپ ان کی چھتوں کے نزدیک دوردور تک پھیلے ہوئے تھے جن میں لگی جالیوں سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔ شور........

© Daily Urdu (Blogs)