menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (10)

14 9
29.12.2025

کھانا کھا لیا تھا۔ لوٹتے ہوئے خاصی گرمی لگی تھی۔ کمرے میں شکر ہے کوئی نہیں تھا۔ ایر کنڈیشنر چلا کر لیٹ گیا تھا۔ گھنٹہ ایک سو لیا تھا۔ عصر کی نماز نیچے جا کر پڑھی تھی۔ تھوڑی دیر لابی میں بیٹھا رہا تھا اور پھر کمرے میں چلا گیا تھا۔ صبح سے نکلے ہوئے لوگ واپس آ چکے تھے۔ یہ چاروں تاجک تھے۔ میری پائنتی کی جانب اور ایر کنڈیشنر کے نیچے والے بیڈ کا مالک مقبوضہ قیافے والا شیریں نام کا ایک چالیس بیالیس سال کا شخص تھا، جس نے متعارف ہوتے ہی گلہ کیا تھا کہ کنڈیشنر سے وہ مریض ہوگیا ہے۔ میرے مخالف دیوار کے ساتھ پہلے بستر پر پینتیس سینتیس سال کا جوان منصور تھا، جو مناسب اور بہتر شخص تھا۔ اس کی پائنتی والے بستر پہ خشخشی اور کسی حد تک سفید داڑھی والا سنجیدہ اور خاموش طبع علیم تھا جبکہ میرے سرہانے کے ادھر والے بستر پہ ایک اور شخص تھا جو ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد آیا تھا۔ مدقوق اور منحنی سے اس شخص کا نام ستار تھا لیکن اس کے ساتھی اسے حضرت کہتے تھے۔ وہ دیہاتی قسم کا سادہ آدمی تھا۔

کھانے کا وقت ہوگیا تھا۔ کمپنی "سلوٹس" نے ناشتہ اور رات کا کھانا دینا شروع کر دیا تھا۔ رات کا کھانا مغرب کی نماز کے بعد سے دو گھنٹے تک کھایا جا سکتا تھا۔ کھانے میں دال کا سوپ اور سبزی گوشت تھا۔ میز پر ایک ڈبے میں کٹی ہوئی ڈبل روٹیاں رکھی ہوئی تھیں۔ بعد میں چائے لی جا سکتی تھی۔ کھانا لائن میں لگ کر لینا ہوتا تھا۔ کھانا بالکل بے ذائقہ تھا۔ میز پر دھرے نمک مرچ سے اسے کھانے کے قابل بنایا جا سکتا تھا۔ بعد میں برمی لڑکے ٹرے اٹھا کر بچا کھچا ایک بڑے سے ٹریش بن میں الٹا رہے تھے۔

کھانا تو خیر جیسا بھی تھا لیکن کمرے میں لوٹ کر آیا تو سب سے بڑا مسئلہ سامنے تھا۔ ٹھنڈے علاقوں کے یہ لوگ ایر کنڈیشنر کی ٹھنڈ سے ایسے خائف تھے جیسے یہ کوئی عفریت ہو۔ چونکہ مدینہ اور مکہ میں فلو کی وائرس چل رہی تھی۔ اژدہام میں وائرس کو پنپنے سے روکا جانا تقریباََ ناممکن تھا مگر ان کم عقلوں کا........

© Daily Urdu (Blogs)