menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Falkiyat Ki Tareekh (4)

32 0
28.09.2026

اسٹون ہینج کی تحقیق نے ایک اہم سوال کو جنم دیا۔ اگر برطانیہ میں تقریباً پانچ ہزار سال پہلے انسان سورج کی سالانہ حرکت کو اس حد تک سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی بنیاد پر بڑی تعمیرات کھڑی کر رہا تھا، تو کیا دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ایسا ہی ہو رہا تھا؟ گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی تحقیق کا جواب ہاں میں ہے۔ مختلف براعظموں سے ایسے شواہد ملے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آسمان کا مطالعہ کسی ایک خطے یا ایک تہذیب تک محدود نہیں تھا، بلکہ مختلف علاقوں میں آباد انسان اپنے اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق آسمانی مظاہر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

ان مقامات میں ایک اہم نام آئرلینڈ کے قدیم مقام نیوگرینج (Newgrange) کا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق اس کی تعمیر تقریباً 3200 قبل مسیح میں ہوئی، یعنی مصر کے عظیم اہرام کی تعمیر سے بھی کئی صدیاں پہلے۔ باہر سے دیکھنے پر یہ مٹی کا ایک بڑا سا ٹیلہ معلوم ہوتا ہے جس کے گرد بڑے پتھر نصب ہیں، لیکن اس کے اندر ایک لمبی اور تنگ راہداری مرکزی کمرے تک پہنچتی ہے۔ ابتدا میں ماہرین اسے صرف ایک قدیم تدفینی مقام سمجھتے تھے، کیونکہ یہاں انسانی........

© Daily Urdu (Blogs)