menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mushahida

15 19
previous day

ڈوبتا سورج اپنی دن بھر کی تھکن ماتھے پر سجائے کسی مہربان بوڑھے آنکھ کی طرح مجھے پیار سے گھور رہا ہے، شاید وہ اپنی زیادتیوں کا مداوا کرنا چاہتا ہے۔ مجھے اس پر پیار آرہا ہے لیکن میں پھر بھی اس سے نظریں ملا نہیں پا رہا ہوں جیسے میں نے پیٹھ پیچھے اس کی بہت برائی کی ہو اور اسے سب پتہ چل گیا ہوں۔

پلیٹ فارم کے سامنے پڑا خالی بینچ کسی آنے والے کی راہ دیکھ دیکھ کے تھک چکا ہے مگر اس آنے والے کو آج دیر ہوگئی ہے یا شاید یہ بینچ انسانوں میں سے خود کو کمپنی دینے کے لئے کسی کا انتخاب کرنے کا سوچ رہی ہے۔ دل نے بے اختیار کہا اس کا انتخاب بن جاؤں لیکن پھر بھی اس کی تنہائی میں مخل ہونے کی گستاخی ہم چاہ کے بھی نہ کرسکے۔ ایسے موقعوں پر گستاخی نہ کرنا اکثر ہمارے ملال کا سبب بنی ہے۔

کچھ مسافر کندھوں پر بیگ لٹکائے ٹرین کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ مسافروں کے لئے انتظار ضروری کیوں ہوتا ہے؟ یہ مسافر اتنے خودمختار، آزاد اور طاقتور کیوں نہیں ہوجاتے کہ سب کچھ چھٹکیوں میں ہو جائے اور انتظار کی بوریت سے گزرنا نہ پڑے۔ بوریت سے یاد آیا "یووال نواح ہراری" بوریت کو........

© Daily Urdu (Blogs)