Zindagi Ab Teri Raftar Se Dar Lagta Hai
کوئی تدبیر کرو وقت کو روکو یارو
صبح دیکھی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے
گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہی لمحے سیکنڈز، منٹ، گھنٹے، دن، ہفتے، مہینے اور سال ایک دوسرے کے پیچھے اتنی تیزی سے بھاگ رہے ہیں کہ زندگی کے جھمیلوں اور گہما گہمی میں پتہ ہی نہیں چلا کہ زندگی کی سات دھائیاں ہی وقت کی مٹھی سے ریت کی طرح سرک چکی ہیں۔ ابھی نیا سال گزرنے نہیں پاتا کہ پھر سے نئے سال کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کی بھی دوڑ لگی ہے جو اپنے ساتھ ہمیں بھی دوڑائے چلا جارہا ہے۔
اس بھاگم بھاگ میں کوئی بچھڑ گیا تو کوئی بکھر گیا۔ جدائی کے یہ صدمات سہنے سے وقت گزرنے کی رفتار کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ کہتے ہیں زندگی کیا ہے۔ غم و خوشی کا ایک ایسا دریا ہے۔ جوں جوں یہ سفاک دریا ڈھلوان کی جانب بڑھتا ہے اس کی دوڑ میں تیزی آنا شروع ہو جاتی اسکے پانی کی رفتار بڑھ کر تیز تر ہو جاتی ہےاور یہ زندگی کو نت نئی صورتوں سے دوچار کرتا چلا جاتا ہے۔ پانی کی طرح وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھومتا ہے کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ ساتھ دوڑنےپر مجبور لگتا ہے۔
پلٹ کر پیچھے کی جانب دیکھنے پر ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم کس اسپیڈ اور رفتار سے دوڑ تے چلے جارہے ہیں اور اس دوڑ میں شامل کتنے ہی چہرے آگے نکل کر اپنا سفر تمام کر چکے ہیں اور کتنے ہی چہرے وقت کے ساتھ دوڑتے دوڑتے کس قدر تھک چکے ہیں کہ کسی لمحے ہی سفر تمام کر دیں گے۔ جیسے جیسے وقت اور زندگی کے اس کھیل میں کچھ فاصلہ بڑھتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلےتو وقت نے بےوفائی کی تھی اور اب زندگی دغا دئے کر ساتھ چھوڑنے کے درپے ہے۔ سوچیں تو یہ سفر طویل لگتا ہے دیکھیں تو یہ سب کل ہی تو بات ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ وقت کی رفتار تو وہی ہے اور وہ اپنی مخصوص رفتار پر ہی رواں دواں ہے یہ زندگی ہی ہے جو کبھی تیز اور کبھی دھیمی رفتار سے چلنا شروع کر دیتی ہے۔ وقت کی رفتار تو وہی ہے مگر منزل کے قریب پہنچ کر ہمیں........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin