menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nafa o Nuqsan

20 0
05.01.2026

ریاضی میرا ہمیشہ ہی بہت کمزور مضمون رہا مڈل کلاس تک ماسٹر ابرار صاحب کے ڈنڈوں اور ماسٹر عاشق شاہ کی کی پیار بھری دھمکیوں کے باوجود ریاضی کا پیریڈ ہمیشہ مجھ پر بھاری ہوتا تھا۔ سالانہ امتحان بھی مشکل سے پاس ہو پاتا البتہ اس مضمون کی کمی باقی مضامین پوری کر دیتے تھے اور یوں مجموعی طور پر کلاس میں پوزیشن ملتی رہتی تھی۔ جب میڑک کی تیاری کے لیے ماسٹر شاہ محمد مرحوم نے ریاضی پڑھانی شروع کی تو ہم نے پوچھا سر! یہ ریاضی پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ریاضی پہلا علم ہے جو انسان کو عطا کیا گیا یہ بظاہر گنتی، ہندسوں، مساوات اور فارمولوں کا مضمون لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ انسانی زندگی کی خاموش زبان ہے غور کریں تو زندگی کا ہر مرحلہ کسی نہ کسی ریاضیاتی اصول کےتحت گزرتا ہے۔

ہماری پوری زندگی ریاضی کے اصولوں کے تابع گزرتی ہے بلکہ زندگی تو نام ہی حساب کتاب ہے گنتی کے سانس اور گنتی کی دھڑکنیں، گنتی کے دن اور گنتی کی راتیں، گنتی کے رشتے، گنتی کے تعلق، ہر شے کا زندگی سے تعلق گنتی پر ہی مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاضی سب سے دلچسپ مضمون ہے مگر اسے پڑھانے والے اسے مشکل بنا دیتے ہیں ورنہ یہ مضمون تو ناخواندہ اور ان پڑھ بھی خوب جانتے ہیں۔ یوں پہلی مرتبہ اس مضمون میں میری دلچسپی اسقدر بڑھی کہ سالانہ امتحان میں سوفیصد نمبروں نے لوگوں کے ساتھ ساتھ مجھے خود بھی حیران کردیا۔ پھر زندگی بھر بینک ملازمت کی تو دن رات ریاضی ہی مقدر بن گئی۔

شاہ محمد صاحب کے ریاضی پڑھانے کا اپنا ہی ایک طریقہ ہوا کرتا تھا۔ وہ ایک بینچ پر اونچا کھڑے ہوکر بلیک بورڈ پر لکھ کر پڑھاتے، اونچا کھڑے ہونے سے پوری کلاس ان کی نظروں میں رہتی اور کسی بھی قاعدئے کو پڑھانے سے پہلے وہ اس کے معنی اور اس کی تشریح بیان کرتے اور ساتھ ساتھ لکھنے کو کہتے اور پھر اس کی ضرورت بتاتےجس سے طالب علم کی کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوجاتی تھی۔ اس روز وہ ریاضی پڑھاتے ہوئے نفع نقصان کا قاعدہ پڑھانے سے قبل کہنے لگے کیا آپ جانتے ہیں کہ ریاضی کیا ہے؟ نفع کیا ہے........

© Daily Urdu (Blogs)