Main Hamesha Dair Kar Deta Hoon
وہ ہمیشہ دیر کر دیتا تھا۔
یوں نہیں کہ وہ جان بوجھ کر وقت ضائع کرتا ہو، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وقت ہی اس سے خفا ہو۔
خوابوں تک پہنچنے میں، لوگوں کو سمجھنے میں اور زندگی کو جینے میں، وہ ہر جگہ چند لمحے پیچھے رہ جاتا تھا۔
بدقسمتی اس کی مستقل ساتھی تھی۔
جہاں وہ پہنچتا، وہاں ناکامی پہلے سے موجود ہوتی، جیسے اس کے آنے کی خبر پا کر اس کا استقبال کرنے آ گئی ہو۔
قسمت کبھی اس پر مہربان ہونے لگتی، تو وہ لمحہ بھر میں ہاتھ چھڑا کر یوں اڑن چھو ہو جاتی جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
وہ نوجوان زندگی کی ہر جنگ ہار چکا تھا۔
تعلیم نے اسے رد کیا، رشتوں نے اسے بوجھ........
