Zaroorat Se Zyada Kabhi Mat Bolein
اتنا مت بولیں کہ لوگ خاموش ہونے کا انتظار کریں بلکہ اتنا بول کر خاموش ہو جائیں کہ لوگ دوبار سننے کا انتظار کریں۔ یہ جملہ ہمیں زبان کے استعمال کا وہ سلیقہ سکھاتا ہے جو آج کے شور زدہ معاشرے میں تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بات اتنی نہ کی جائے کہ سننے والا بے زاری کے عالم میں صرف خاموشی کے لمحے کا منتظر رہے، بلکہ گفتگو ایسی ہو کہ جب ختم ہو تو سننے والا دوبارہ سننے کی خواہش میں مبتلا ہو جائے۔ یہ ایک معمولی نصیحت نہیں........
