Iktisab Ki Aziyat
شعر و سخن کی دنیا میں الہام و اکتساب یا آمد و آورد شروع ہی دن سے متنازع مبحث رہے ہیں۔ لیکن اب تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ اچھی شاعری کا سرچشمہ کہاں سے پھوٹتا ہے یا اچھا سخن ور کس قبیل سے تعلق رکھتا ہے؟ بر خوردار راقم الحروف کا اپنا تعلق بھی اکتساب سے ہے، مگر ان کو تشفی الہام کے قبیلے میں شمار ہونے سے ہوتی ہے۔ زندگی میں اگر محنت و ریاضت کی تعریف و تحسین کو دیکھا جائے تو اکتساب کا پلڑا آمد پر بھاری ہو نا چاہیے، مگر لگتا یہ ہے کہ شعر و شاعری کی دنیا میں آمد کا سکہ ہی رائج الوقت ہے۔
الہام اور آمد وہاں جڑیں پکڑ لیتی ہیں جہاں معاشی تنگ دستی، جنسی نا آسودگی، سماجی محرومی اور ہر لحاظ سے تنہائیوں اور نارسائیوں نے اپنے ڈھیرے جمالیے ہوں۔ جب کہ اکتساب اور آورد کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ فنی لحاظ سے روانی اور سہل ممتنع آمد، جب کہ ثقالت اور تعقید آور کی علامات ہیں۔ وسیع تجربے کی بنیاد پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آمد کا جمالیات، مسرت اور حظ سے پرانا رشتہ رہا ہے اور آورد کے اعصاب پر افادہ سوار رہا ہے۔ اس تناظر میں سخن ور کے ساتھ بحث میں پڑے بغیر اس کے سخن سے یہ اندازہ بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ سخن ور کا تعلق کس قبیل سے ہے۔ ادب کی دنیا میں تمام تر تحریکیں بنیادی طور پر انھی دو رجحانات کی پیداوار ہیں۔
اکتساب میں افادے کی فصل بکثرت ہوتی ہے، مگر جمالیات کی خوشبو اور مٹھاس کم ہوتی ہے۔ جب کہ آمد کے گلزار میں افادے کی قحط ہوتی ہے۔ سماج میں رہنے والے تمام لوگ یک ساں زندگی نہیں گزارتے اور نہ ہی ان کو یک ساں تفریح کی ضرورت ہے۔ جن کو ابھی تک منزل نہیں ملی ہو اور ہنوز سفر میں مصروف ہیں، ان کو افادی تفریح کی ضرورت ہے اور جن کو منزل ملی ہے، ان کے لیے مسرتی تفریح کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے جو افراد ہنوز سفر میں ہیں، وہ بھی مسرتی تفریح میں پناہ لے رہے ہیں۔ جو ان کے لیے افیون ثابت ہوئی ہے۔........
