Balatar
یہ انسانی جبلت، فطرت کہہ لیں کہ انسان خود کو دوسروں سے الک اور نمایاں نظر آنے کے خبط میں مبتلا ہے اور اسی زعم میں وہ قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے۔ لیکن حکومت اپنی قانونی رٹ قائم کرتی ہے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو توازن قائم رہے اس کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے۔ بیشک قانون کتنا ہی اچھا کیوں نہ بنا لیا جائے پھر بھی کہیں نہ کہیں اس میں بہتری یا نظر ثانی کی گنجائش رہتی ہے۔ موجودہ گورنمنٹ نے پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد شروع کروایا ہے اور کچھ نئی اصطلاحات اور ادارے قائم کئے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب احسن اقدام ہیں۔ جیسا کہ ٹریفک قوانین کا اطلاق۔ جرمانے کی شرح میں اضافہ۔ پیرا فورس کا قیام وغیرہ۔
جیسا کہ حال ہی میں سکھ کیمونٹی کو ہیلمٹ سے مبراء کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک جائز اور اچھا فیصلہ ہے۔ لیکن ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی نظر میں تمام بچے یکساں ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے علماء اکرام یا ہمارے دیہاتی بزرگ جو پگڑی کا استعمال کرتے ہیں ان کو بھی ہیلمٹ سے استثناء دی جائے یہ ایک جائز مطالبہ ہے حکومت کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح جرمانے کی شرح ہر چھوٹے بڑے شہر میں یکساں ہے۔ میری نظر میں اس کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اچھا عمل ہوگا۔ بڑے شہروں میں........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin