Rail Ki Seeti, Ya Dard Ki Seeti
قدرت کے انداز عجب ہیں۔ بعض آوازیں انسانیت کو مسرت کا پیغام دیتی ہیں، جب کہ کچھ آوازوں میں ایسا درد سمایا ہوتا ہے کہ دل میں غم کی لہر سی اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔ کوئل بولے، چڑیا چہکے تو من خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ لگتا ہے کسی نے کانوں میں رس گھول دیا ہے، مگر ایک آواز ایسی ہے، جس میں قدرت نے درد کی سوغات کچھ اس ڈھب سے رکھی ہے کہ جوں ہی کانوں میں پڑتی ہے، چاروں طرف درد کا ہالہ سا بُن جاتا ہے۔ وہ کیا ہے، ٹرین کی سیٹی۔ رات گہری ہو، سناٹا ہو، ہو کا عالم ہو اور دور کسی اسٹیشن پہ ریل کی سیٹی بجے، تو لگے گا اس آواز میں عجیب سا روگ ہے، کچھ عجیب سی ٹیس ہے، عجیب سا بَین ہے۔
رات کے اندھیرے میں دور کہیں سنائی دینے والی ریل کی سیٹی، لگتا ہے کوئی ہمیشہ کے لیے نہ آنے والے کو بےکسی میں ڈوبی درد بھری آواز دیتا ہے۔ سناٹا کانپ اٹھتا ہے اور تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا بہت دور کہیں اکیلا بیٹھا ہمیں یاد کر رہا ہو، مگر ہم اس تک پہنچنے سے قاصر ہوں۔ یہ آواز چبھتی ہے ایک پرانے زخم کی طرح، جسے ذرا سا کریدا جائے، تو پورا وجود دُکھنے لگے۔
ریل کی سیٹی کی دردناک آواز سنیں تو لگے گا، کسی افسردہ کے لیے سوگ کی گھڑیاں رک سی گئی ہیں،........

Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin