menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dukhtar e Mashriq Ki Barsi

14 1
27.12.2025

دسمبر کا مہینہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی و جمہوری حلقوں کے لیے ہرسال ایک نہ ختم ہونے والا دکھ، سوالوں کا طوفان اور پرانے زخموں کی نئی یادیں لےکر آتا ہے، ایسا زخم وقت جس کی مرہم نہ بن سکا۔ وقت اور موسم بدلتے رہے لیکن دسمبر کا یہ زخم آج بھی تروتازہ ہے اور یہ بھرنے کانام نہیں لے رہا کیونکہ یہ ایک فرد کے نہیں بلکہ ایک نظریہ ایک خواب اور ایک عہد کا زخم ہے۔ ایک عہد اور نظریہ زخمی نہیں بلکہ لہولہان ہوا تھا۔

شہادتِ محترمہ بےنظیر بھٹو پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک باب ہے جس کے ہر حرف پر خون آنسو اور سوال رقم ہیں۔ یہ سانحہ محض ایک سیاسی قائد کے قتل تک محدود نہیں بلکہ یہ عوام کے حقِ حکمرانی، آئین کی بالادستی اور جمہوری تسلسل پر کاری ضرب تھی۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ایک انسان پر نہیں ایک نظریے پر چلائی گئی اس نظریے پر جو آمریت کے اندھیروں میں بھی عوام کے چراغ جلائے رکھتا تھا۔

بے نظیر بھٹو کی زندگی ابتدا ہی سے سیاست اور قربانیوں کے حصار میں رہی۔ ایک منتخب وزیر اعظم، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کی آڑ میں تختۂ دار پر لٹکا دینا دراصل جمہوریت کے دل پر پہلا بڑا وار تھا۔ اس لمحے ایک بیٹی نے باپ کھویا اور ایک قوم نے اپنی امید۔ مگر یہی صدمہ بےنظیرکے لیے شکست نہیں بنا بلکہ عزم کی بنیاد بن گیا۔ انہوں نے طے کرلیا کہ........

© Daily Urdu (Blogs)