menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tehzeebi Tasalsul, Islami Shanakht Aur Bare Sagheer Ki Mushtarka Tareekh

18 0
previous day

تہذیبی تسلسل، اسلامی شناخت اور برصغیر کی مشترکہ تاریخ

پاکستانی ثقافت کی تاریخی جڑیں تلاش کرتے ہوئے جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ہماری تہذیب کا آغاز موہنجو داڑو سے تسلیم کیا جائے یا برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے، تو بظاہر یہ تاریخ، شناخت اور تہذیبی ورثے سے متعلق ایک اہم علمی بحث محسوس ہوتی ہے۔

لیکن کیا واقعی کسی قوم کی تہذیبی شناخت کو ماضی کے دو مختلف ادوار میں سے کسی ایک کے انتخاب تک محدود کیا جا سکتا ہے؟ کیا تہذیب کوئی ایسی شے ہے جسے انسان اپنی مرضی سے چند حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ قبول اور دوسرا مسترد کر دے؟ کیا ہزاروں برس کی تاریخ کو چند پسندیدہ حوالوں تک محدود کردینے سے کسی قوم کی شناخت مکمل ہوجاتی ہے؟

یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر معروف دانشور احمد جاوید صاحب نے اپنی گفتگو میں توجہ دلائی ہے۔ ان کے نزدیک یہ بحث اپنی موجودہ صورت میں مصنوعی ہے، کیونکہ تہذیب کسی ایک دور، کسی ایک واقعے یا کسی ایک تاریخی مقام کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو نسل در نسل انسانی زندگی، اجتماعی شعور، اخلاقی تصورات، معاشرتی رویوں اور طرزِ حیات پر اپنے اثرات مرتب کرتا رہتا ہے۔

قومیں اپنے ماضی سے بنتی ہیں، لیکن ان کی شناخت محض ماضی کے آثار میں محفوظ نہیں ہوتی، وہ ان اثرات میں بھی زندہ رہتی ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار سے گزر کر ان کے حال کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔

کسی تہذیب کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس تاریخ کے کون سے عناصر آج بھی ہماری اجتماعی زندگی میں سانس لے رہے ہیں۔

یہی فرق تاریخی ورثے اور زندہ تہذیبی تعلق کے درمیان ایک بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے۔

احمد جاوید صاحب نے اس ضمن میں ڈاکٹر مبارک علی اور ان سے مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے اہلِ فکر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک نہایت اہم اصول بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک کلچر یا ثقافت کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان اپنی تاریخ سے چند چیزیں منتخب کرے اور باقی کو اپنے شعور سے خارج کردے۔

ثقافت تو ان اثرات کا نام ہے جو تسلسل کے ساتھ کسی معاشرے کی زندگی میں شامل ہوتے رہیں اور اس کے اجتماعی مزاج کی تشکیل کرتے رہیں۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو برصغیر کی تاریخ میں موہنجو داڑو، ہڑپہ، گندھارا اور دیگر قدیم تہذیبی مراکز کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ سب ہمارے جغرافیے اور تاریخی ماضی کے اہم ابواب ہیں۔

ان کے آثار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس خطے میں ہزاروں برس پہلے بھی انسانی بستیاں آباد تھیں، لوگ اپنے مخصوص معاشرتی نظام رکھتے تھے، دست کاری، تجارت، تعمیرات اور اجتماعی زندگی کے مختلف طریقوں سے واقف تھے۔ ان آثار کو محفوظ رکھنا، ان پر تحقیق کرنا اور نئی نسلوں کو ان سے متعارف کرانا ہماری علمی اور قومی ذمہ داری ہے۔

لیکن ان تاریخی حقائق کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان تمام قدیم تہذیبوں کو اپنی موجودہ ثقافتی شناخت کا واحد سرچشمہ قرار دے دیں۔ تاریخ کا احترام اور تہذیبی شناخت کا تعین دو الگ مگر باہم مربوط معاملات ہیں۔ ایک قوم........

© Daily Urdu (Blogs)