menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sabz Passport, Sabz Waqar

22 0
18.07.2026

سبز پاسپورٹ، سبز وقار

قومیں صرف آئینوں سے نہیں بنتیں، وہ علامتوں سے بنتی ہیں۔ کبھی ایک پرچم قوم کو جوڑ دیتا ہے، کبھی ایک ترانہ کروڑوں دلوں کو ایک دھڑکن میں پرو دیتا ہے، کبھی ایک زبان منتشر لوگوں کو ایک تہذیب میں بدل دیتی ہے اور کبھی ایک رنگ پوری تاریخ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کی قسمت میں بھی ایک ایسا ہی رنگ لکھا گیا تھا۔ سبز!

یہی رنگ ہمارے پرچم کا ہے، یہی ہماری شناخت کا ہے، یہی ہماری امیدوں کا ہے اور یہی اس خواب کی تعبیر کا رنگ ہے جو برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی پہچان اگر کسی ایک رنگ سے ہوتی ہے تو وہ "سبز" ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو اس کی جیب میں موجود "سبز" پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے پاکستان کا تعارف ہوتا ہے۔ اس چھوٹے سے کتابچے میں ایک ریاست کی خودداری، ایک قوم کی عزت اور کروڑوں انسانوں کی شناخت سمٹی ہوتی ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی ریاست کے کچھ شہریوں کے لیے الگ "رنگ" کیوں؟ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ارکانِ پارلیمان کے لیے "نیلا" پاسپورٹ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں "نیلا" اور "سرخ" پاسپورٹ ہونا ہی کیوں چاہیے؟ کیا سرکاری ملازم پاکستانی نہیں؟ کیا سفارت کار پاکستانی نہیں؟ کیا ریاست کے دوسرے اداروں سے وابستہ لوگ اسی سرزمین کی اولاد نہیں؟ اگر سب پاکستانی ہیں تو ان کی قومی شناخت کا رنگ مختلف کیوں ہو؟ اگر قومی پرچم ایک ہے تو قومی پاسپورٹ بھی ایک ہونا چاہیے اور وہ صرف "سبز" ہونا چاہیے۔

ریاستیں جب اپنے شہریوں میں امتیاز پیدا کرتی ہیں تو یہ امتیاز آہستہ آہستہ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ذہنوں میں اتر جاتا ہے۔ پھر عہدے، مناصب اور مراعات قومی برابری پر غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ ریاست کے سامنے سب برابر ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ایک مزدور، سپریم عدالت کا جج........

© Daily Urdu (Blogs)