menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Federalist Paper Number 10, Grohon Ki Siasat Aur Riyasat Ki Hikmat

29 0
07.08.2026

"فیڈرلسٹ پیپر نمبر 10"، گروہوں کی سیاست اور ریاست کی حکمت

تاریخ کے بعض صفحات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عہد سے نکل کر آنے والی صدیوں کے لیے چراغ بن جاتے ہیں۔ وہ محض سیاسی دستاویزات نہیں رہتے بلکہ انسانی معاشروں کی نفسیات، ریاستوں کی ساخت اور اقتدار کے نشیب و فراز کو سمجھنے کی کنجی بن جاتے ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب امریکہ کا نیا آئین زیرِ بحث تھا تو ایک نوجوان مفکر جیمز میڈیسن نے ایک مضمون تحریر کیا جسے بعد میں "فیڈرلسٹ پیپر نمبر 10" کے نام سے شہرت ملی۔ بظاہر یہ ایک آئینی بحث تھی لیکن درحقیقت یہ انسانی فطرت اور سیاسی معاشرے کے دائمی مسائل کا تجزیہ تھا۔ میڈیسن نے ایک ایسے خطرے کی نشاندہی کی جسے اس نے "گروہ بندی" کہا۔

اس کے نزدیک جب افراد اپنے مشترک مفادات، نظریات، تعصبات یا معاشی فوائد کی بنیاد پر منظم ہو جاتے ہیں اور پھر قومی مفاد سے زیادہ اپنے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں تو معاشرہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے۔ یہ گروہ کبھی سیاسی جماعتوں کی شکل اختیار کرتے ہیں، کبھی معاشی دباؤ کے مراکز بن جاتے ہیں اور کبھی مذہبی، نسلی یا علاقائی شناختوں کے گرد جمع ہو کر ریاست کی وحدت کو چیلنج کرنے لگتے ہیں۔ میڈیسن کا کمال یہ تھا کہ اس نے اس مسئلے کو محض اخلاقی خرابی قرار نہیں دیا بلکہ انسانی فطرت کا لازمی نتیجہ سمجھا۔ اس کے نزدیک جب تک انسانوں کے خیالات، خواہشات، صلاحیتیں اور معاشی حالات مختلف رہیں گے، گروہ بندی بھی موجود رہے گی۔ سوال یہ نہیں کہ اسے ختم کیسے کیا جائے، سوال یہ ہے کہ اس کے نقصانات کو محدود کیسے کیا جائے؟

آج جب ہم اپنے گردوپیش کا منظرنامہ دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دو سو سال سے زیادہ پہلے لکھی گئی یہ تحریر گویا........

© Daily Urdu (Blogs)