menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Phupho Aur Khala

17 6
28.12.2025

وہ عورت جو ایک ہی دن میں دو گھروں کے صحن کا حصہ ہوتی ہے، ایک دروازے پر داخل ہو تو "خالہ جان" کہلا کر بچوں کے گلے لگتی ہے اور دوسرے دروازے پر قدم رکھے تو "پھوپھو" بن کر نگاہوں میں ایک انجانا سا کھٹک چھوڑ جاتی ہے۔ وہی چہرہ، وہی لہجہ، وہی ہاتھ۔۔ مگر رشتے کا نام بدلتے ہی جذبات کی لغت بھی بدل جاتی ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جو رشتوں کو کردار نہیں، کرداروں کو رشتوں کے نام سے تولتا ہے؟

یہ سوال مجھے پہلی بار تب چونکا گیا جب میں نے ایک ہی عورت کو دو گھروں میں دو مختلف روپوں میں جیتے دیکھا۔ ایک گھر میں وہ بچوں کے بال سنوارتی، جیب خرچ دیتی اور بچوں کے لیے "ماں جیسی خالہ" کہلاتی تھی۔ دوسرے گھر میں وہی عورت ذرا اونچی آواز میں بول دیتی تو "پھوپھو کی مداخلت" قرار پاتی۔ وہاں اس کی خاموشی بھی شکایت تھی اور بولنا بھی الزام۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ مسئلہ عورت کا نہیں، ذہنوں میں........

© Daily Urdu (Blogs)