Hum Kab Bigre?
مجھے یاد ہے دو تین دہائیاں پہلے ہمارے گلی محلے کی وہ شامیں جب دروازے بند نہیں ہوتے تھے، صرف پردے دروازے کے آگے سرکا دیے جاتے تھے۔ فجر اور پھر عصر کے بعد دودھ والا دودھ اکٹھا کرنے کیلئے جب گلی میں داخل ہوتا، دودھ فروخت کرنے والے گاؤں کے لوگ برتنوں میں دودھ لے کر آتے تو گوالے کی پہلی گڑوی بھری بالٹی میں سے جب نکلتی تو بھری ہوئی بالٹی آدھی رہ جانے پر فروخت کرنے والے کے تیور بھی دیکھنے لائق ہوتے۔ استاد محلے سے گزرتا تو بچے کھیل چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اگر کسی بزرگ کا جنازہ ہوتا تو پورا محلہ کام کاج چھوڑ کر شریک ہوتا۔ اس زمانے میں غربت تھی، سہولتیں کم تھیں، مگر ایک چیز وافر تھی: شرم، لحاظ اور اعتماد۔ آج سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم کب بگڑے؟
ہم ٹوٹے اس دن جب ہم نے اقدار و اخلاقیات کو فرسودہ اور چالاکی کو عقل سمجھنا شروع کیا۔ جب ہم نے بچوں کو یہ سکھایا کہ "بس نمبر اور گریڈز آ جائیں قابلیت ہو یا نہ ہو"، جب........
