Husn e Surat Se Kahan Hota Hai Husn e Seerat Ka Andaza
حُسنِ صورت سے کہاں ہوتا ہے حسنِ سیرت کا اندازہ
ہم نے انسان کو سمجھنے کے بجائے اسے دیکھ کر فیصلہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ لباس دیکھا، حلیہ دیکھا، گفتگو کا انداز دیکھا اور چند لمحوں میں ایک پوری شخصیت کے بارے میں رائے قائم کر لی۔ کسی نے جینز پہن لی تو کردار مشکوک، کسی لڑکی نے بے تکلف انداز میں بات کر لی تو اس کے بارے میں کہانیاں شروع، کسی نے داڑھی رکھ لی تو اسے نیک سمجھ لیا، کسی نے عبایا پہن لیا تو اس کے کردار کی سند جاری کر دی۔ کیا ہم انسان کو دیکھتے ہیں یا صرف اس کا لباس؟ ہم کردار پڑھتے ہیں یا صرف چہرہ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں کسی دوسرے انسان کے بارے میں اتنی جلدی فیصلہ سنانے کا اختیار آخر کس نے دیا ہے؟
لباس انسان کی شخصیت کا ایک اظہار ہو سکتا ہے، مگر شخصیت کا مکمل تعارف نہیں۔ کپڑے جسم کو ڈھانپتے ہیں، کردار انسان کے باطن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک شخص مہنگے اور نفیس لباس میں ملبوس ہو کر بھی خود غرض، جھوٹا اور بددیانت ہو سکتا ہے، جبکہ سادہ لباس پہننے والا شخص غیر معمولی ظرف، دیانت اور انسانیت کا مالک ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جدید لباس پہننے والی لڑکی لازماً غیر سنجیدہ نہیں ہوتی اور مکمل روایتی لباس پہننے والی ہر عورت لازماً باکردار نہیں ہوتی۔ لباس کا تعلق ذوق، ثقافت، موسم، معاشی حیثیت اور ذاتی پسند سے ہو سکتا ہے۔ کردار کا تعلق نیت، تربیت، اصول اور عمل سے ہے۔ دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا دراصل انسانی شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم ظاہری دینداری، شرافت اور تہذیب کے مظاہر سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں، مگر انسان کے رویّے کو جانچنے کے لیے ہمارے پاس نہ وقت ہے نہ صبر۔ ہمیں یہ دیکھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کون کیا پہن رہا ہے، مگر یہ دیکھنے کی فرصت نہیں کہ وہ کمزور انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ ہمیں کسی کی زبان پر مذہبی الفاظ سن کر اس کی نیکی کا اندازہ ہو جاتا ہے، مگر یہ دیکھنے کی........
