”چوہے، رشوت اور ریلیف“
چوہے رشوت کی رقم کھالیں تویہ بظاہر کسی فلم کا سین لگتاہے اور ساتھ ہی یہ تصورکیاجائے کہ رشوت لینے والا کترے ہوئے نوٹ دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہواورسوچ رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ لٹ گئی کمائی۔۔۔ خیر خبریہ ہے کہ بھارت کی ریاست بہار کی ایک سرکاری افسر کو اس وقت بڑا قانونی ریلیف ملا جب سپریم کورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ رشوت کے مقدمے میں بطور ثبوت ضبط کی گئی رقم چوہے کھا گئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سرکاری موقف پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت کے طور پر رکھی گئی کرنسی کا اس طرح ضائع ہونا نظام میں سنگین غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے خاتون افسر کی سزا فی الحال معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت تک انہیں عبوری ریلیف دے دیا۔
ریاست بہار کی ایک خاتون افسر پر رشوت لینے کا الزام تھا اور پولیس نے برآمد کی گئی رقم کو بطور 'مالِ مقدمہ' (ثبوت) محفوظ کیا تھا۔ جب کیس عدالت میں چلا، تو پراسیکیوشن نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ نوٹ عدالت میں پیش نہیں کر سکتے کیونکہ تھانے کے سٹور روم (مال خانہ) میں چوہوں نے وہ رقم کھا لی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ نظام کی سنگین غفلت ہے۔عدالت تو ثبوت پر چلتی ہے، ثبوت کی عدم موجودگی اور اس عجیب........
