جب مسودے کتبے بن جاتے ہیں؟
کسی بھی زندہ اور باوقار تہذیب کی نمو پذیری اس کی یادگاروں کی سرد ہندسی ترتیب، اس کے اسلحہ خانوں کی صولت و جبر یا شیشے اور فولاد سے مرصع فلک بوس عمارتوں کے بے جان ہیولوں میں پنہاں نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، تہذیبی زندگی کا جوہر ''مستند لفظ'' کی اس نایاب، نزیہہ اور غبارِ تیرہ سے داغدار پناہ گاہ میں سانس لیتا ہے جسے حوادثِ زمانہ کی تند و تیز لہریں بھی محو نہیں کر پاتیں۔ ایک تخلیق کار کیلئے اس کا غیر مطبوعہ مسودہ محض کوئی ذہنی موشگافی، فکری تعیش یا نحو (Syntax) کے خشک قالب میں ڈھلی ہوئی بے روح ترتیب نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ اس کے تخلیقی وجود کی ایک حسی، نامیاتی اور وجدانی توسیع ہوتا ہے۔ یہ وہ لختِ جگر ہے جو بیداری کی لامتناہی ساعتوں کے جگر سوز کرب اور اضطرابِ مسلسل کے بطن سے جنم لیتا ہے اور جس کی نمو لکھاری نے اپنے جوہرِ حیات اور خونِ جگر کی آمیزش سے کی ہوتی ہے۔ کسی بکھرتے ہوئے معاشرے اور فکری پستی کے عہد میں ایک غیر مطبوعہ اور غیر محفوظ مسودے کو سینے سے لگائے رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ہولناک صرصر کے عین مرکز میں ایک لرزتے ہوئے چراغ کو اپنی نحیف ہتھیلیوں کے حصار میں بچانے کی آخری اور جان گسل سعی کرنا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کہنے پر ایران پر حملہ موخر کیا، امریکی اخبار کا دعویٰفرانز کافکا نے تخلیقی ادب کی انقلاب آفریں قوت کو ایک لافانی استعارے میں ڈھالتے ہوئے رقم کیا تھا کہ ”کتاب ہمارے اندر کے منجمد سمندر کو پارہ پارہ کرنے والا کلہاڑا ہونا چاہیے“، لیکن ہمارے اس بنجر اور قحط زدہ عصرِ رواں میں، اس کلہاڑے کو ایک بے حس، جاہل اور غارت گر اشرافیہ کی فکری سرد مہری سے کند کیا جا رہا ہے۔ لکھاری کی روح کا ایک ایسے سماج میں دانستہ استحصال کیا جا رہا ہے جس نے اپنے اجتماعی ضمیر کا سودا اقتدار کی ہیبت اور مادی مفادات کے عارضی سراب کے عوض کر لیا ہے۔ ہم ایک ایسے اذیت ناک اور ہولناک تضاد کے اسیر ہیں جہاں ریاست کنکریٹ کے بے روح مینار تو بلند کر رہی ہے مگر ہماری فکری وراثت اور علمی جلالت کی بنیادیں خاموشی سے پیوندِ خاک ہو رہی ہیں۔ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں تو ہمیں وہ حکمران اور نواب نظر آتے ہیں جنہیں آج کا سطحی ”ترقی پسند“ بیانیہ جابر قرار دیتا ہے؛ لیکن جمالیاتی سرپرستی، علم پروری اور فن کی قدر شناسی کے باب میں وہ ایسی نجابت ِ نفس اور فکری وسعت کے امین تھے جو آج کے حکمران طبقے کی پر ایک تازیانہ ہے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ تخت و تاج کی چمک عارضی اور ناپائیدار ہوتی ہے،........
