We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

دریا کے اندر علم کا دریا

10 2 17
04.01.2019

کوئی مشکل ہی سے یقین کرے گا کہ دریائے سندھ کے پاٹ میں ویران پڑے ہوئے علاقے میں،جسے کچے کا علاقہ کہتے ہیں، جہاں کچھ عرصے پہلے تک ڈاکوؤں، لٹیروں اور اٹھائی گیروں کا راج تھا، آج وہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اسکول تعمیر ہوگئے ہیں جن میں نہ صرف لڑکے بلکہ سینکڑوں لڑکیاں بھی تعلیم پا رہی ہیں۔میں وہاں گیا تو جن عمارتوں کو میں پولیس اسٹیشن سمجھا تھا وہ جدید درس گاہیں تھیں۔ پولیس کا تو ذکر ہی کیا، بے چارے سپاہی اس علاقے میں جاتے ہوئے ڈرتے تھے، اسی ویرانے میں تنہا کھڑی ہوئی ایک ویران عمارت دیکھی جوپولیس نے ڈاکوؤں کو کچلنے کے لئے اپنی چوکی کے طور پر بنائی تھی۔ ڈاکوؤں کو اپنے ہتھیار چلانے اور نشانے بازی کی مشق کرنے کے لئے اچھا ٹھکانا مل گیا اور عمارت پر اتنی گولیاں چلیں کہ پولیس کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا۔میں گیا تو اسی شیر دریا کا یہ نظار ہ بھی کیا جسے دیکھنے کے لئے میںتیس برس پہلے لدّاخ سے اس کے ساتھ ساتھ چلا تھا۔ صو بہ سندھ کے علاقے میں یوں نہیں ہے کہ دریا میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی بہہ رہا ہو۔ یہاں تو موسم موسم کا معاملہ ہے۔ کبھی جوش کا عالم ہو توزور آور دریا ابل پڑتا ہے اور کبھی خاموش دھاروں کی طرح اِدھر بہنے لگتا ہے اور کبھی اُدھر۔ باقی علاقے سنسان رہتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی بستی ہے نہ آبادی۔ بس دریا کی سوکھی ہوئی تہہ ہے اور وہ بھی خوب زرخیز۔ یہی کچے کا علاقہ ہے۔ میں گیا تو پورے........

© Daily Jang