We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سلطانی گواہ نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

9 30 54
13.12.2018

دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص سلطانی گواہ نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟احتساب کے خواب سراب ہو جاتے اورناپسندیدہ سیاستدانوں کو نشانِ عبرت بنانادشوار ہو جاتا ۔ہمیں برطانوی قانون دان فرنے چارلس (Fearne Charles)کا ممنون و شکر گزار ہونا چاہئے جس نے 18ویں صدی میں کرائون وِٹنیس کی قانونی اصطلاح متعارف کروائی ۔شاید اس زمانے میں وہاں بھی احتساب کا ایسا ہی کڑا نظام رائج تھا جیسا آج ہمارے ہاں دکھائی دے رہا ہے۔عدالتوں میں استغاثہ کو شدید مشکلات پیش آتیں، شہادتوں اور شواہد کی عدم دستیابی کے باعث ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔اس کا حل یہ نکالا گیا ہےکہ کسی شریک ِجرم شخص کو رہائی کا لالچ دیکر کرائون وِٹنیس بنالیا جائے تاکہ مرکزی ملزم کے خلاف اس کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے سزا دی جا سکے۔اس شرانگیز قانونی اختراع پر تب بھی بہت سوالات اٹھے اور اب بھی ایسی گواہی کو معتبر خیال نہیں کیا جاتا کیونکہ ذاتی فائدے کی غرض سے ملزم کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔قانونی گنجائش تو شریک ِملزم کو سلطانی گواہ بنانے کی حد تک تھی مگر استغاثہ نے یہ راستہ بھی نکال لیا کہ کسی بے گناہ شخص کو زبردستی شریک ملزم بنا کر گرفتار کرلیا جائے اور پھر اسے سلطانی گواہ بننے کے عوض رہائی کی پیشکش کی جائے۔ ماضی میں کئی اہم مقدمات کے متنازع فیصلے اسی بنیاد پر ہوئے ۔مثال کے طور پر بھگت سنگھ جسے پاکستان اور بھارت میں یکساں طور پر جدوجہد آزادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اسے سلطانی گواہوں کے ذریعے ہی قتل کے مقدمے میں پھنسا کر پھانسی کی سزا دی گئی۔بھگت سنگھ اور بی کے دَت........

© Daily Jang