menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

انصار عباسی

32 12
latest

ایران میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے پرتشدد احتجاج کو محض اندرونی عوامی ردِعمل قرار دینا ایک سادہ بیانیہ ہوگا۔ ایران برسوں سے امریکی و اسرائیلی دباؤ، پابندیوں اور کھلے معاندانہ عزائم کی زد میں ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعوے سامنے آ چکے ہیں کہ ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں کی پشت پناہی حاصل رہی، موساد کے ایجنٹس گرفتار کیے گئے اور احتجاجیوں کی طرف سے تشدد جلاوگھیراو کیا گیا اور اسلحہ کا استعمال بھی ہوا۔ ان تمام عوامل کو نظرانداز کر کے اگر ان احتجاجوں کو صرف ”عوامی آزادی کی تحریک“ قرار دیا جائے تو یہ ادھورا بلکہ گمراہ کن تجزیہ ہوگا۔ امریکا کی طرف سے احتجاجیوں کی کھلی حمایت اور ایران پر ممکنہ حملے کے اشارے کسی بھی شک و شبہ کو دور کرنے کیلئے کافی ہونے چاہئیں۔ لیکن ایسے ماحول میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا ایران سے متعلق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا بیان خاص توجہ کا مرکز بنا۔ ملالہ نے لکھا:”ایران میں ہونیوالے احتجاجوں کو لڑکیوں اور خواتین کی خودمختاری پر عائد طویل عرصے سے جاری ریاستی پابندیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پابندیاں عوامی زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجود ہیں، جن میں تعلیم بھی شامل ہے۔ ایرانی لڑکیاں، دنیا بھر کی لڑکیوں کی طرح، باعزت زندگی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ایران کے عوام برسوں سے اس جبر کے خلاف خبردار کرتے آئے ہیں، وہ بھی شدید ذاتی خطرات مول لے کر، مگر دہائیوں سے ان کی آوازیں دبائی جاتی رہی ہیں۔ یہ پابندیاں صنفی کنٹرول کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہیں، جو علیحدگی، نگرانی اور سزا کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے، ایسا نظام جو آزادی، انتخاب اور تحفظ کو محض تعلیمی اداروں تک محدود........

© Daily Jang