menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

محمود شام

24 1
latest

شہر قائد کے بہت سے لوگوں نے اپنے صوبے کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا ہوگا جتنے نزدیک سے انہوں نے اس ہفتے خیبر پختونخوا کےجواں سال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دیکھا 'سنا، مہربان مسکراہٹ آنکھوں میں دلکش چمک۔ اپنے صوبے سے باہر نکل کر دوسرے صوبوں میں اپنی پارٹی کے بانی کے پیغام کو پہنچانا سیاسی پابندیوں کے دور میں ہمت کا کام ہے۔ اپنی جگہ یہ تنقید بھی درست ہے کہ اپنے صوبے میں محرومیاں مشکلات دور کرنا ایک وزیراعلیٰ کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ پہلے اس سے فارغ ہوں پھر وہ دوسرے صوبوں کا رخ کریں تو اچھا لگتا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کے ایسے جارحانہ رویوں نے پارٹی کو ایک نئی زندگی دیدی ہے۔ ایک پیاس، ایک بےچینی ہر صوبے کے ہر شہر میں ہے۔ ریاست اور اکثریتی عوام میں وفاقی حکومت اور وفاق میں صوبائی حکومتوں اور صوبوں کے لوگوں کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔

سہیل آفریدی کے دوروں میں نوجوان جس تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان ریلیوں کے ذریعے یہ پیاس کسی حد تک بجھ جاتی ہوگی۔ ہم جیسے اگلے وقتوں کے لوگ قیام پاکستان سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ حکمرانوں نے عوام کو قریب لانے کی بجائے ایسے ایسے شعوری تجربے کئے ہیں کہ عوام اور خواص ایک دوسرے سے دور رہیں۔ کبھی صوبے ختم کر کے ون یونٹ کا تجربہ، بڑی آبادی اور کم آبادی میں برابری یعنی پیرٹی کا فارمولہ۔ پھر چار بار فوجی حکمرانوں کی خود نظم و نسق سنبھالنے کی مشقیں۔ 1985ء سے شراکت اقتدار کی آزمائشیں اور آج کل آئینی طور پر ایک صفحے پر رہنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن معاف کیجئے حقائق بہت تلخ ہیں۔

غربت کی لکیر سے نیچے ہجوم بڑھ رہا ہے۔ غریب اکثریت پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ ماہرین معیشت تو ان دونوں امور کو ترجیح دینا چاہتے ہیں کہ ریاست کو استحکام غربت کم کرنے قرضوں کا بار گھٹانے سے ہی مل سکتا ہے۔ عام آدمی تک اصلاحات کا ثمر اسی صورت پہنچ سکتا ہے۔لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہی ہیں....ہم بہادر آباد میں عالمگیر مسجد کے سامنے والی گلی میں صبح سویرے موجود ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے طالب علمی کے زمانے میں یونین کے صدر سلطان چاولہ کے سالانہ ناشتے........

© Daily Jang