menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈاکٹر فر قان حمید

23 22
previous day

عالمی دفاعی و سفارتی حلقوں کی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک ممکنہ سہ فریقی دفاعی اتحاد سے متعلق اطلاعات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی فریم ورک میں شمولیت کیلئے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے، تاہم تینوں ممالک کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ تصدیق یا تردید کا اعلان سامنے نہیں آیا۔بلومبرگ کے مطابق مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔نئے ممکنہ اتحاد کی صورت میںکسی ایک رکن ملک پر حملہ، تینوں ممالک پر تصور کیا جائیگا۔تجزیہ کاروں کےمطابق سعودی عرب کی دفاعی سرمایہ کاری کی صلاحیت، پاکستان کی فوجی تجربہ کاری، میزائل، جوہری پروگرام اور ترکیہ کی بڑی، تجربہ کار فوج کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، اس ممکنہ اتحاد کوایک کثیرالجہتی اسٹریٹجک پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں۔ ترکیہ نے پاکستان نیوی کیلئے جدید جنگی جہازتیار کیے ہیں، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی تعاون کیاہے۔ اسکے علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید فضائی منصوبوں، جن میں ترکیہ کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے کا پروگرام بھی شامل ہے، پر بات چیت جاری ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات ،پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور افغانستان سے متعلق سلامتی کے مسائل ان ممالک کو نئے دفاعی فریم ورک پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔اسرائیل اور بھارت اس ممکنہ اتحادپر تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ پاکستان جوہری طاقت کا مالک ہے........

© Daily Jang