عظمیٰ گل
سارے افغان طالبان کی ہمدردیاں ٹی ٹی پی کے ساتھ نہیں لیکن ٹی ٹی پی ان کی مجبوری ضرور بن گئی ہے۔ دو دہائیوں تک امریکی مفادات کو مقدم رکھنے والی،امریکی ایماء پر قائم افغان حکومتیں، افغانستان میں امریکہ اور ہندوستان کی موجودگی سے استفادہ حاصل کرتی رہی ہیں۔امریکہ سے ڈالروں کی کھیپ آتی اور انہی مفاد پرستوں میں تقسیم ہوجاتی۔ بہت سے اعلیٰ عہدوں پر براجمان اپنے ہی گھروں کے تہ خانوں میں ان ڈالروں کا ذخیرہ کیاکرتے ۔ حتیٰ کہ 15 اگست 2021 میں جب اچانک سقوطِ کابل ہوا تو وہ اپنے ڈالروں کے خزانے باہر نہ نکال سکے اور یوں آج بھی افغانستان میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ طالبان نے سکیورٹی کی آڑ میں ان شخصیات کے گھروں پر نظر رکھنےکیلئے اپنے خاص بندے تعینات کر رکھے ہیں ۔ ان دو دہائیوں میں امریکہ، ہندوستان اور دو ریاستوں نے افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر کو خوب بڑھاوا دیا۔ ایک طرف انہوں نے پاکستان کی علیحدگی پسند تحاریک کی آبیاری کی تو دوسری جانب پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکائی ۔جبکہ ناجائز افغان حکومتیں افغانستان میں ہونے والی ہر خرابی کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتیں رہیں۔ ہماری حکومت پر امریکہ سے دباؤ ڈلوایا جاتا،غیر معمولی رعایتیں اور سہولیات لی جاتیں اور افغان طالبان کے خلاف ہمارا بھرپور استعمال بھی کروایا جاتا ۔ نتیجتاً پاکستان کا یہ حال ہوا کہ" نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم" ۔ 2021میں افغان طالبان کے کابل فتح کرنے پر پاکستانی عوام نے اسی جوش و خروش سے خوشیاں منائیں ،مبارکبادیں دیں اور لیں جیسے یہ ہماری اپنی فتح ہو۔ اس کے برعکس جس روز کابل فتح ہو رہا تھا ہماری ناعاقبت اندیش حکومت نے طالبان مخالف جماعتوں کا ایک اکٹھ پاکستان میں بلا کر انہیں پورا پروٹوکال دیا، میڈیا اور پریس کے سامنے بٹھایا جہاں انہوں نے طالبان مخالف پرا پیگینڈے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس پر طرۂ یہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے دیگر حکومتی نمائندے بیانات داغتے رہے کہ افغانستان میں ہمیں اسٹرٹیجک ڈیپتھ یعنی دوست اور ہمدرد حکومت کی ضرورت نہیں۔محض ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے مشورے کے برخلاف ٹی ٹی پی سے معاملات طے ہوئے، ان کے 45 ہزار افراد کے پی کے میں اور پانچ سے 10 ہزار بلوچستان میں........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Waka Ikeda
Mark Travers Ph.d
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin