وجاہت مسعود
(گزشتہ سے پیوستہ)
کسی قوم میں تعلیمی صورتحال نہ صرف اسکی معیشت سے جڑی ہے بلکہ سیاسی اور تمدنی ارتقا بھی علمی معیار اور تعلیم کے پھیلاؤ سے متعین ہوتا ہے۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں مقامی باشندوں کے لیے جدید تعلیم کی آواز 19ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں راجہ رام موہن رائے نے اٹھائی۔ عین اس وقت جب برطانوی حکومت فورٹ ولیم کالج قائم کر رہی تھی، رام موہن رائے نے قدیم علوم کے احیا کی بجائے جدید علوم بالخصوص سائنس کی تعلیم پر زور دیا۔ سرسید احمد خان نے راجہ صاحب کی سوچ تک پہنچنے میں 75برس لیے اور 1876ء میں علی گڑھ تحریک شروع کی جو جدید اور قدیم کاامتزاج ہونے کے علاوہ مخصوص طبقاتی تشخص بھی رکھتی تھی۔ تاہم سرسید برطانوی ہندوستان کے مسلمانوں میں جدیدیت کی علامت ٹھہرے اور ان کے ردعمل میں قدامت پسندوں کا دھارا نمودار ہوا۔ سرسید کے خیالات سے متاثر ہونے والوں میں ابوالکلام آزاد کا مقام بہت بلند ہے ۔ مولانا آزاد صحافی، ادیب اور مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ تحریک آزادی کی ہراول سیاسی جماعت کانگرس کی مرکزی قیادت کا حصہ تھے۔ کانگرس کی تاریخ میں مولانا آزاد کا نام گاندھی، نہرو اور پٹیل کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ مولانا ’الہلال‘ کے زمانے ہی سے تعلیم کے موضوع پر لکھتے چلے آرہے تھے۔ اگرچہ انہوں نے خود مذہبی طریق پر تعلیم پائی تھی لیکن جدید تعلیم کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ میدان سیاست میں اترنے کے بعد ان کی صحافت اور علمی اشغال کے لیے وقت کی کمی آڑے آئی تاہم ان کی سوچ مسلسل تعلیم کے سوال پر مرتکز رہی۔ آزاد ہندوستان میں مولانا کو تعلیم کی وزارت دی گئی اور وہ 1958ء میں اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ مولانا نے آزاد ہندوستان میں تعلیمی پالیسی کے خدوخال مرتب کیے۔ نتیجہ یہ کہ آج عالمی سطح پر خواندگی کی شرح 86.3 فیصد ہے جبکہ ہندوستان میں شرح خواندگی 81فیصد ہے۔ بھارت میں تعلیمی معیار کا اندازہ اس امر........
© Daily Jang
