مودی اور میڈیا: عوامی مکالمے کا خاتمہ…(4)
مودی اور میڈیا: عوامی مکالمے کا خاتمہ…(4)
حکومت نے اپنی پہلی سالگرہ کے موقع پر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی اور پرکشش نام والی سکیم کا اعلان کرنے کی تیاری کی تھی۔ باقاعدہ منصوبہ یہ تھا کہ سالگرہ والے دن صبح11 بجے ایک پریس کانفرنس بلا کر اس کا شاندار اعلان کیا جائے گا۔ مگر انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس کی ایک مستعد رپورٹر کو یہ خبر مل گئی اور پریس کانفرنس سے ایک روز قبل اخبار کے صفحہ اول پر ایک خوبصورت اور پرکشش سرخی کے ساتھ اخبار نے اسے اینکر اسٹوری کے طور پر شائع کر دیا، جو کہ سکیم کے اس پرکشش نام کے عین مطابق تھی۔اگلی صبح11بجے جب پریس کانفرنس میں سرکاری طور پر سکیم کا اعلان ہوا، تو انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹر کے ہوش اڑ گئے۔ وہ سکیم اسکی شائع شدہ تفصیلات کے تقریباً بالکل الٹ تھی۔ سکیم کا نام بدل دیا گیا تھا، اس کے بنیادی مقاصد مختلف تھے اور پورا طریقہ کار تبدیل ہو چکا تھا۔ جب میں نے بعد میں اس کی اندرونی تحقیق کی ، تو معلوم ہوا کہ جس دن انڈین ایکسپریس نے یہ سٹوری بریک کی تھی، تو وزیرِ اعظم کے دفتر میں کہرام مچ گیا تھا کہ یہ سکیم وقت سے پہلے لیک کیسے ہو گئی؟ یہ کوئی قومی سلامتی کی خفیہ معلومات نہیں تھیں جس پر پی ایم او اتنا خوفزدہ ہو جاتا، مگر مودی کے ہاں میڈیا کو چونکانے کا جنون اس سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔چنانچہ دن کے وقت تو خاموشی رہی، آدھی رات کے سناٹے میں، جب پی ایم او کو مکمل یقین ہو گیا کہ تمام صحافی اخبارات پریس میں بھیج کر اپنے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں اور اب کوئی نئی خبر باہر لیک ہونے کا قطعی امکان نہیں رہا، تو اعلیٰ حکام اور افسران کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی۔........
