مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے دو عمارتیں تباہ
مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے دو عمارتیں تباہ
مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے دو عمارتیں تباہ اور سڑک کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ معمول کی بات ہے مگر ایسا صرف شدید برف باری یا معمول سے زائد بارشوں کی وجہ سے ہوتا ہے جہاں تک گزشتہ روز حادثے کا تعلق ہے تو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ غیر منظم تعمیراتی سرگرمیاں ہیں گزشتہ کچھ برسوں سے مری کے گردو نواح میں درجنوں منظور شدہ اور غیر منظور شدہ رہائشی سکیموں کے اشتہارات آ رہے ہیں ان میں سے اکثر بلڈرز اراضی حاصل کرکے اس پر ترقیاتی کام شروع کر دیتے ہیں ہر سکیم میں رہائشی پلاٹس تک پہنچنے کے لئے خود سے پہاڑ کاٹ کر سڑکیں بنانا شروع کر دیتی ہے جس کی وجہ سے پہلے سے تعمیر شدہ بلندی پر عمارتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اس طرح حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی سکیموں کے لئے بھی کاغذی کارروائی اور حفاظتی اقدامات تو کئے جاتے ہیں مگر پہلے سے تعمیر پرانے گھروں اور عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس سے مفر نہیں کہ گزشتہ روز کی لینڈ سلائیڈنگ سے قبل ہی انتظامیہ نے عمارتیں خالی کروا لیں تھیں جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جو مستحسن اقدام ہے مگر یہ امر اس بات کا عکاس ہے کہ حکومتی اداروں کو خطرے کا ادراک تھا مگر لینڈ سلائیڈنگ سے پہلے عمارتیں نہیں گرائی جا سکیں۔ بہتر ہو گا حکومت نا صرف واقعہ کی شفاف تحقیقات کروائے بلکہ مستقبل میں ترقیاتی کاموں سے پہلے حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔
