خاتم الانبیاءﷺسے سچی محبت کے تقاضے
جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا جہاں انصاف کا نام و نشان نہ تھا، طاقتور کمزور کو دبانا اپنا حق سمجھ رہا تھا۔ انسان معمولی باتوں پر سالہا سال جنگ و جدال میں الجھ کر ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بعثت خاتم الانبیائ، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ کی صورت سب سے بڑا احسان فرمایا۔آپﷺ کی آمد سے قبل ظلم و ستم، ناانصافی، حق تلفی، خدا فراموشی اور توحید بیزاری کے اس سنسان ماحول میں اخلاق و شرافت کا شدید بحران تھا اور ایک دوسرے سے ہمدردی و محبت کے جذبات و احساسات ختم ہو چکے تھے۔
ایسے تیرہ و تار دور میں آپ ﷺ تشریف لائے اور قرآنی تعلیمات و نبوی ہدایات کے ذریعہ دنیا کا رخ موڑ دیا۔ آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری صرف ایک فرد کی آمد یا محض تاریخی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ سسکتی، تڑپتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کو ایک نئی زندگی دینے کا ابدی پیغام اور آب حیات تھا۔ آپ ﷺ نے صرف 23 سال کے مختصر ترین عرصے میں بکھرے ہوئے، بے سمت، ناانصافی اور خدا فراموشی میں مبتلا معاشرے کو دنیا کا سب سے بہترین، بااخلاق، مہذب اور عادلانہ معاشرہ بنا کر دکھا دیا۔
ماہِ ربیع الاول اسلامی سال کا وہ خوبصورت اور مسعود مہینہ ہے جو اپنے ساتھ خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں کی بے شمار بہاریں لے کر آتا ہے۔ ربیع کا لفظی مطلب ہی بہار کا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی ولادتِ با سعادت نے انسانیت کی خزاں زدہ دنیا کو ایک ایسی ابدی بہار عطا کی جس کی شادابی قیامت تک قائم رہے گی۔ یہ مہینہ ہمیں ہر سال یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنِ انسانیت ﷺ کو بھیج کر ہم پر کتنا عظیم احسان فرمایا ہے۔
اس مبارک مہینے کا اصل تقاضا اور حق یہ ہے کہ ہم محض روایتی اور ظاہری خوشی منانے یا چراغاں کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ کثرت سے آپ و پر درود و........
