پاکستانی عورت اور بنیادی انسانی حقوق
کیا عورت کو انسان ہونے کے لیے بھی کسی دلیل کسی اجازت اور کسی سند کی ضرورت ہے، یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے مگر اس کے اندر پورا سماج،ریاست، قانون اور ہماری اجتماعی سوچ چھپی ہوئی ہے، لیکن اس سوال کو صرف پاکستان تک محدود کرکے دیکھنا بھی درست نہیں۔ عورت کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ صرف پاکستانی عورت کا مسئلہ نہیں ،یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔
دنیا نے ترقی کی ہے، عورتیں یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں، پارلیمان میں بیٹھ رہی ہیں، بڑی کمپنیوں کی سربراہ بن رہی ہیں اور ریاستوں کی قیادت کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود عورت کو مکمل حقوق آج بھی حاصل نہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں عورتیں گھریلو اور جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، صرف اپنی مرضی سے زندگی گزارنے پر قتل کردی جاتی ہیں، جبری شادیوں کا سامنا کرتی ہیں اور کام کی جگہ پر ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک میں عورت کو وہی کام کرنے پر مرد کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، یعنی تعلیم اور ملازمت کے مواقع بڑھنے کے باوجود مساوی سلوک کا سوال آج بھی موجود ہے۔
اس لیے پاکستانی عورت کے حقوق پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک عالمی مسئلے کے پاکستانی پہلو پر گفتگو کررہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر سماج اس مسئلے سے اپنی تاریخ، ثقافت، معیشت اور سماجی ساخت کے مطابق دوچار ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عورت کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔ آئینی اور قانونی اعتبار سے جواب یقینا ہاں ہے مگر عملی زندگی میں یہ جواب اتنا سیدھا نہیں۔ پاکستانی عورت مکمل انسان برابر کی شہری اور بنیادی حقوق کی حقدار ہے لیکن حقیقت میں اسے اپنے بہت سے حقوق کے حصول کے لیے خاندان رسم و رواج سماجی دباؤ، معاشی محتاجی اور بعض اوقات ریاستی نظام سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔
پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ عورت بھی اسی ملک کی برابر کی شہری ہے۔ قانون کی نظر میں اس کی جان، عزت، آزادی، تعلیم ،روزگار، اظہارِ رائے اور انصاف تک رسائی کے حقوق موجود ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستانی عورت کے بنیادی انسانی حقوق سرے سے موجود ہی........
