دعاؤں کا خزانہ
ملک کے تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی پختہ تر عمر کا مرد یا خاتون موجود ہوتی ہے۔ انھیں بوڑھا مرد یا بوڑھی خاتون بھی کہہ سکتے ہیں۔ کثیرعمر کے مالک یہ افراد اکثر اوقات مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بستر کے ساتھ والی میز پر دوائیاں‘ شربت اور چھوٹے چمچ اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کھانستے بھی زیادہ ہیں۔ بلغم نکالنے کی کامیاب یا ناکام کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔ انھی میں سے اکثر لوگ‘ بوز وبراز پربھی قدرتی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔
انھیں پیمپر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود‘ ان کا بستر خشک نہیں رہتا۔ ہزاروں یا لاکھوں انسانوں کا ذکر نہیں کر رہا ۔ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ آپ انھیںکوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ بزرگ‘ قبر میں پیر لٹکائے ہوئے افراد‘ موت کے منتظر یا کوئی بھی عنوان۔ غور فرمائیے۔ یہ لوگ‘ عملی زندگی میں اپنے اپنے اہل خانہ کا مستقبل بنانے کے لیے زندگی قربان کر چکے ہوتے ہیں۔ چہروں کی جھریوں میں مشقت ‘ محنت اور ریاضت کے وہ تکلیف دہ مراحل چھپے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کسی کو بھی علم نہیں ہوتا۔ دراصل بدن اور مونہہ پر لٹکتی ہوئی کھال کی ایک ایک لکیر کے اندر‘ ان گنت خاموش کہانیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ جن کا ذکر کوئی بھی نہیں کرتا۔ وہ خود بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں بتاتے‘ کہ پینتیس سے چالیس برس‘ اپنے بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کس خوفناک آگ میں جھلستے رہے ہیں۔
دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ اولاد‘ انھیں پرانے فرنیچر کی طرح بیکارسمجھ کر کسی ایسے کونے میں منتقل کر دیتی ہے جہاں وہ کسی کو بھی کم سے کم نظر آئیں۔ انھیں مہمانوں سے بھی زیادہ نہیں ملایا جاتا۔ شاید میری گزارشات غیر مناسب لگیں۔ مگر یہ جملے‘ حقیقت کے قریب تر ہیں۔ تصویر کا صرف ایک رخ بتایا ہے۔ ویسے‘ اب تک کوئی ایسا معاملہ نہیں جو آپ کے علم میں نہ ہو۔ چند دوسرے رخ بھی ہیں۔ بلکہ بہت سی معلوم نہ ہونے والی جہتیں بھی ہیں۔ یہ بوڑھے مرد اور خواتین اس وقت تک نہیں سوتے جب تک ان کی اولاد واپس گھر نہیں آ جاتی۔
ان کی آنکھیں دروازے کی طرف مسلسل لگی رہتی ہیں۔ کان‘ اپنے پیاروں کے........
