menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

صبر آخر کب تک

18 1
28.12.2025

پاکستانی عوام اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ ایک خاموشی ہے! ایک ایسی خاموشی جو ہار ماننے کی نہیں بلکہ مسلسل آزمائش، مسلسل نظرانداز ہونے اور بار بار دھوکا کھانے کے بعد پیدا ہونے والی تھکن کی علامت ہے۔کوئی امید نظر نہیں آتی، ہر طرف مایوسی کی فضا ہے۔

لوگ تھک گئے ہیں سوال کر کے اور انھیں اندازہ ہے کہ ان کو اپنے کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔

مہینے کے آغاز میں یہ فکر ہوتی ہے کہ محدود تنخواہ میں اخراجات کس طرح پورے کیے جائیں۔ بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کا بل، بچوں کی فیس،دوا، کرایہ اور دیگر ضروریات زندگی کو باعزت طریقے سے کیسے ممکن بنایا جائے۔

بہت سی چیزیں اس لیے خاموشی سے فہرست سے کاٹ دی جاتی ہیں۔ ایک عام شہری بڑی مشکل سے زندگی بسر کر رہا ہے۔

ریاست اور شہری کے درمیان جو رشتہ کبھی وعدوں، دعوؤں اور اجتماعی خوابوں پر قائم تھا، اب مفاہمت اور مجبوری پر چل رہا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ بہت کچھ بدلنے والا نہیں، اس لیے وہ صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔

یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قوم اب اس مقام پر آچکی ہے جہاں بہتری کی امید بھی ایک ایسا خواب یا خواہش لگتی ہے جو پوری نہیں ہوسکتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انکارکی قوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔

جب ناانصافی روزمرہ کا معمول بن جائے تو انسان صرف مظلوم نہیں رہتا، وہ ایک خاموش........

© Express News