خواتین آج بھی عدم تحفظ کا شکار
گزشتہ دنوں کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے, جھنگ میں طالبہ کا گینگ ریپ اور قتل، اور ایک محنت کش خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر معاشرے میں خواتین کے عدم تحفظ کے موضوع کو نمایاں کر دیا ہے۔ مذکورہ تینوں واقعات میں نوجوان لڑکیوں سمیت ایک شادی شدہ خاتون کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ وہ واقعات ہیں جو منظر عام پر آ چکے ہیں۔ نہ جانے خواتین کے ساتھ زیادتی کے کتنے واقعات ایسے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے، جن کو بدنامی کے ڈر، طاقتوروں کے خوف اور خواتین کے خلاف ظالمانہ رسم و رواج کی وجہ سے دبا دیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے واقعے میں ایک لفٹ آپریٹر نے لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے زندگی بھر کےلیے ایک بھرپور زندگی سے محروم کردیا۔ دوسرے واقعے میں ایک طالبہ کو تین مجرموں نے اغوا کیا اور گینگ ریپ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ملک کے آئین میں خواتین کے تحفظ کےلیے قانون سازی ہوچکی ہے۔ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کےلیے قوانین متعارف کروائے جاچکے ہیں۔ ان کی دادرسی کےلیے مختلف ادارے بنائے جاچکے ہیں۔ خواتین کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آپ کسی بھی قسم کے واقعے کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ کل کو کسی بڑے سانحے کا شکار نہ ہوں۔ خواتین کی داد رسی کےلیے تھانوں میں خواتین اہلکار بھی موجود ہیں اور کسی حد تک تھانہ کلچر کے درشت رویوں میں بھی کمی آئی ہے۔ جس سے عوام اپنے مسائل کی دادرسی کےلیے پولیس تھانے میں جانے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود خواتین کے ساتھ واقعات میں کمی آنے کے بجائے یہ تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔
اس ضمن میں جب سوال اٹھایا جاتا ہے تو مختلف ملکوں میں خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات کی گردان شروع کی جاتی ہے اور شروع ہمارے پڑوسی ملک سے کی جاتی ہے کہ وہاں خواتین کی صورتحاال بالکل بھی اچھی نہیں ہے اور مغرب میں تو خواتین بالکل ہی بے........
