menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yahudi Se Pehle Falasteeni Ko Goli Maro

22 0
19.05.2026

یہودی سے پہلے فلسطینی کو گولی مارو

اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلتھ کے دائرہِ اختیار میں مقبوضہ مغربی کنارہ بھی شامل ہے۔ ایوی بلتھ نے ایک بند کمرے کے فورم میں مغربی کنارے پر " امن و امان " برقرار رکھنے کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے فلسطینیوں پر فائرنگ کرنے کے قواعد و ضوابط میں پہلے سے زیادہ نرمی کر دی ہے۔

بالخصوص وہ فلسطینی جو تلاشِ معاش کی خاطر مقبوضہ علاقے سے اسرائیل میں بلا اجازت چوری چھپے داخل ہوتے ہیں، انھیں غیر مسلح سویلین تصور کرنے کے بجائے ایک ممکنہ دھشت گرد سمجھ کے گھٹنے پر یا اس سے نیچے گولی مار کے حراست میں لینے کا حکم ہے۔ تاکہ باقیوں کو خوف رہے کہ حد بندی والی رکاوٹیں پار کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ بقول میجر جنرل بلتھ آپ کو فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں میں ایسے سیکڑوں لنگڑاتے ہوئے لوگ ملیں گے جو ضابطے توڑنے کی سزا کا چلتا پھرتا اشتہار ہیں۔

میجر جنرل بلتھ نے بتایا کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے ہم نے مغربی کنارے پر ڈیڑھ ہزار سے زائد " دھشت گرد " مارے۔ ان میں سے صرف چار فیصد بے گناہ تھے۔ ستر فیصد مسلح تھے۔ لہذا یہ تاثر درست نہیں کہ فلسطینی کوئی غیر مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔ ورنہ وہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہوتے۔

بقول جنرل بلتھ مسلح لوگوں کو دیکھتے ہی گولی چلا دینا مشرقِ وسطی میں عام روائیت ہے۔ یعنی اس سے پہلے کہ وہ تمہیں مارے تم اسے مار دو۔ لہذا ہم اسی روائیت پر عمل کرتے ہوئے اتنے " دھشت گرد " مار چکے ہیں جتنے انیس سو سڑسٹھ کے بعد سے دو ہزار........

© Daily Urdu