Surkh Lakeer Aur Ummat Ka Mustaqbil
سرخ لکیر اور امت کا مستقبل
امریکہ اور ایران کے مابین دہکتی ہوئی دشمنی کی راکھ سے اگر دوبارہ لمبی جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے تو اس کا سب سے ہولناک خمیازہ ایران کی سرزمین اور اس کے معصوم عوام کو بھگتنا پڑے گا ماضی میں امریکی حملوں اور سخت ترین پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر پہلے ہی توڑ دی ہے۔ اگر ایران نے بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر آبنائے ہرمز سے زبردستی ٹول ٹیکس وصول کرنے کی ضد نہ چھوڑی تو یہ خطہ ایک ایسی خوفناک تباہی کا گہوارہ بن جائے گا جس کا تصور بھی محال ہے آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی راستے پر کسی ایک ملک کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر ہر ملک اپنے ساحلوں سے گزرنے والے جہازوں سے بھتہ لینے لگے تو عالمی تجارت کا دھارا ہی رک جائے گا۔ اس ممکنہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے بجلی گھر، ہسپتال، سڑکیں اور گیس کے ذخائر خاکستر ہو جائیں گے۔
موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عرب ساحلوں و سمندری حدود میں ایرانی جارحیت نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی........
