Layyah Ke Ghulam Haider Thind Ka Aik Hazar Rupia
لیہ کے غلام حیدر تھند کا ایک ہزار روپیہ
یاد پڑتا ہے 1980 کی دہائی کا کوئی سال تھا۔ شاید 1986/87 ہوگا۔ ہم گائوں کے لڑکوں کی اپنی کرکٹ ٹیم تھی۔ گائوں کے قریب ہی جنگل کو کئی دن خود صاف کیا اور کھیلنے کے لیے جگہ بنائی۔
وہاں ہم لڑکے سیمنٹ کی کرکٹ پچ بنانا چاہتے تھے۔ سب نے اپنا اپنا گھر والوں سے چندہ اکٹھا کیا اور پچ بنائی۔
اس جنگل کے مالک نے پہلے انتظار کیا کہ ہم سب لڑکے وہ جگہ صاف کر لیں تو وہ اپنا حق ملکیت جتانے آئیں گے۔ وہی ہوا اگلے دن ہم نے کرکٹ شروع کی تو انہوں نے وہیں اینٹں رکھوا دی اور اپنا گھر شروع کرادیا۔
کئی دن ہم لڑکے باولے ہوئے پھرتے رہے۔ مرتے کیا نہ کرتے ایک نئی جگہ تو تلاش کر لی لیکن نئی سیمنٹ پچ کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے؟
کسی نے بتایا کہ ہمارے بیٹ نشیب میں لیہ کے ایم پی اے غلام حیدر تھند نے ایک جگہ آنا ہے۔
ہم گائوں کے چند لڑکے وہاں پیدل چل پڑے۔........
