menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gul Meena

23 0
16.09.2026

ظفر سید جو کہ زیف سید کے قلمی نام سے مشہور ہیں صحافی، مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ ناول نگار بھی ہیں۔ "گل مینہ" ان کا دوسرا ناول ہے۔ جس کی جدید اشاعت جہلم بک کارنر نے کی ہے۔ گل مینہ کئی لحاظ سے منفرد ناول ہے جس کا کینوس کافی وسیع ہے۔ یہ کئی دفعہ قاری کو صدیوں پیچھے کا سفر کراتا ہے تو اس کے ساتھ اس صدی کے بھی تین مختلف زمانوں کی کہانی بھی ذکر کرتا ہے۔ گل مینہ اُردو کے ان چند ناولوں سے ہے جس میں افغانستان کے مسئلہ اور پھر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور اس کے اندر عسکریت پسندی کے باعث جو سماجی ڈھانچے میں تبدیلی آئی ہے اس کو ذکر کرتا ہے۔

ناول کی کہانی کا آغاز تو عامیانہ سا ہے جب گل مینہ زرجان کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کا بھائی اس کی شادی پچاس ہزار کے عوض ایک بڈھے شخص جس سے گل مینہ کی ویسے ہی تلخ یادیں ہوتی ہیں کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس کے دادا اس کے لیے زرجان کو پسند کر چکے تھے مگر وقت نے مہلت نہ دی اور ان کے مرنے سے پہلے بات پکی نہ ہوئی۔ یہ دونوں فرار ہوتے ہوئے راستے سے ایسے بھٹکتے ہیں کہ افغانستان کے علاقے پکتیکا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس فرار کے دوران ایک دلچسپ چیز گل مینہ کے ہاتھوں میں تھری ناٹ تھری رائفل ہے۔ جو وہ ساتھ لیکر چلتی ہے۔ گل مینہ بعد میں زرجان کی بیوی بنتی ہے۔ اس کی زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہوتی ہے کہ افغانستان کے سیاسی حالات میں تبدیلی کے ساتھ اس کی زندگی میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اس کی زندگی کے اندر آنے والے حادثات اور واقعات کا سلسلہ ایسا شروع ہوتا ہے کہ اس کا تعلق راولپنڈی میں ہونے والے بینظیر بھٹو پر حملے سے جا ملتا ہے۔

گل مینہ کی زندگی کا یہ سفر بھی تین مختلف ادوار پر منقسم ہے۔ پہلا جب وہ زرجان کے ساتھ اپنے علاقے سے بھاگتی ہے اور لینڈ مائن کے حادثے میں دونوں جان سے جاتے ہوئے بچتے ہیں۔ یہ افغانستان سے روسی انخلاء کے بعد کا زمانہ ہے۔ اس وقت روس کی جانب سے پھیلائے ہوئی بارودی سرنگیں اب بھی کئی جانیں لے چکی ہوتی ہیں۔ اس ہی زمانے میں افغانستان کے اندر مجاہدین کے مختلف گروہوں میں آپسی خانہ جنگی بھی ہوئی اور پھر جب طالبان کا ظہور ہوا تو اس بدامنی پر قابو آنے پر لوگ سکھ کا سانس تو لیتے ہیں مگر طالبان کی اپنی آمد کے بعد افغانستان کے سماجی ڈھانچے میں کیا کیا تبدیلیاں رُونما ہونے والی ہیں وہ لوگ اس سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ پھر تیسرا دور جب امریکہ افغانستان پر قبضہ کرتا ہے اور پاکستان بھی اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بنتا ہے تو اس کے بعد افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کا جو خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے افغانستان سے جڑا قبائلی علاقہ ہے۔ اس علاقے کے لوگوں نے اس جنگ کا بہت خمیازہ بھگتا ہے اور اس کے بعد جو معاشرے میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کی سوچ کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند گروہوں کی وجہ سے استحصال کا یہ دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں گل مینہ کی زندگی کے بیس سال جہاں اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتے ہیں اس کے ساتھ اس خطے کے لوگوں کو بھی ایک تاریخی جبر کا سامنا کرنا ہوتا ہے جو وہاں کے رہنے والے ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

جہاں پر گل مینہ کی زندگی تین ادوار میں تقسیم ہے۔ ایسا ہی ناول کی کہانی بھی تین مختلف زمانوں پر مشتمل ہے۔ پہلا جنگ عظیم اول کے بعد اینگلو افغان جنگ یعنی کہ 1919 اور 1920 کا زمانہ۔ جب قبائلی علاقوں میں افغان لشکروں نے انگریزوں کو پیچھے دھکیلا۔ وانا کے علاقے میں برطانوی فوج کے انخلاء کے احوال کا ذکر ہے۔ برطانوی فوج میں شامل مقامی افراد کس تذبذب کا شکار ہوئے۔ حالات کو بدلتا دیکھ کر کچھ لوگوں نے اپنی ہی فوج سے بغاوت کی۔ جو مقامی افراد برطانوی فوج کے ساتھ مخلص تھے ان کی سوچ کیا تھی اور جب برطانوی افواج پسپا ہو رہی تھیں........

© Daily Urdu