menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Insan Ka Sakhta Aina Aur Rab Ka Nizam e Adal

22 0
30.08.2026

انسان کا ساختہ آئینہ اور رب کا نظامِ عدل

ہم زندگی کے جس موڑ پر اس وقت سانس لے رہے ہیں، یہ فکری طور پر بڑا عجیب اور لرزہ خیز دور ہے۔ انسان نے اپنی عقل کے بل بوتے پر معلومات، خبروں اور حافظے کے ایسے ایسے نظام وضع کر لیے ہیں جو ماضی کے تمام ادوار میں ناپید تھے۔ تاریخ کے صفحے الٹ کر دیکھیے، ایک زمانہ وہ تھا جب کسی دانشور، صحافی یا فکر پرور انسان کے دل کی آواز، اس کا سچ اور اس کے نظریات صرف کاغذ کے چند بوسیدہ ٹکڑوں، الماریوں میں بند فائلوں یا اخبارات کے محدود تراشوں تک محدود ہو کر رہ جاتے تھے۔ اکثر و بیشتر سچی باتیں وقت کی گرد میں دب جاتیں اور لکھنے والے کے ساتھ ہی پیوند خاک ہو جایا کرتی تھیں۔ مگر آج کا دور بالکل مختلف ہے۔ آج انسان کے بنائے ہوئے جدید معلوماتی آلات ایک ایسا بے رحم اور شفاف آئینہ بن چکے ہیں جو انسان کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ، اس کے خیالات اور اس کے مجموعی کردار کو بلا کم و کاست دنیا کے سامنے لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

چند روز قبل کی بات ہے، میں اپنے مطالعے کی میز پر بیٹھا اسی فکری ادھیڑ بن میں مبتلا تھا کہ آخر جدید دور کا یہ معلوماتی نظام انسانوں کی خدمات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اس موقع پر میں اپنے گھر کی چیف ایڈیٹر یعنی اپنی پیاری بیٹی کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہوگی، جو روزانہ میرے لیے علم و معلومات کے نئے نئے در وا کرتی ہے اور دنیا بھر کی تحقیق و معلومات مجھ تک پہنچاتی ہے۔ میں نے اس کی معاونت سے بطور تجربہ اس نظام کے سامنے ہمارے وطن عزیز کے چند انتہائی ممتاز، صاحب اسلوب اور سرکردہ کالم نگاروں کے اسمائے گرامی رکھے اور ان کی خدمات کے بارے میں پوچھا۔ میرا گمان تھا کہ شاید یہ خشک نظام صرف چند سرسری باتیں ہی بتا پائے گا، لیکن جو جوابات سامنے آئے انہوں نے مجھے گہرے حیرت و استعجاب میں مبتلا کر دیا۔ اس حافظے نے........

© Daily Urdu