Tamasha Magar Shuru Ho Chuka Hai
تماشہ مگر شروع ہو چکا ہے
اپنی وفات سے چند ہفتے قبل عرفان صدیقی صاحب نے مجھے قاصد کے ہاتھ بند لفافے میں ایک خط بھجوایا تھا۔ سینٹ کے لیٹر پیڈ پرہاتھ سے لکھے خط میں شفیق استاد کی طرح انہوں نے میری تحریروں میں مایوسی کے غلبے کا ذکر کرتے ہوئے میری اس سوچ سے اتفاق کیا کہ گزشتہ چند مہینوں سے یہ کالم حقائق کو اپنے عنوان کے مطابق برملا بیان کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ میں اس کا عنوان بدلنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے زیرِ لب تجویز کیا۔
مرحوم کے لکھے خط نے چونکادیا۔ وہ مسلم لیگ (نون) سے عملی طورپر صحافت کو چھوڑ کر نتھی ہوچکے تھے۔ اسی باعث عمران حکومت کے دوران توہین آمیز اندز میں گرفتار بھی ہوئے۔ وقت بدلا تو ایوانِ بالا کے رکن بنادئے گئے۔ ٹی وی پروگراموں میں اکثر انہیں حکومتی پالیسیوں کے دفاع کے لئے مدعو کیا جاتا۔ مجھے امید تھی کہ جو خط ان کی جانب سے وصول ہوا ہے مجھے مایوسی سے اجتناب کا مشورہ دے گا۔ یقین دلائے گا کہ جس حکومت کا وہ ٹی وی سکرینوں پر ٹھنڈے مگر مدلل انداز میں دفاع کرتے ہیں مجھ جیسے بے ہنر لکھاریوں سے بھی حقائق کو برملا بیان کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ دل میں آئی بات کو لیکن وہ زیرِ لب بیان کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
پھنے خانی کا بھرم برقرار رکھنے کے شوق میں اس کالم کا عنوان بدلا نہیں۔ کئی مہینوں سے مگر صبح اٹھتے ہی بچ بچاکر اشاروں کنایوں میں غیر ممنوعہ علاقوں میں گھسے بغیر ایسے موضوعات پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں جو آپ کو بے زار نہ کریں۔ قارئین کے ردعمل سے اندازہ ہوا کہ زراعت سے جڑے موضوعات شہری متوسط طبقے کے مقابلے میں قصبات میں آباد افراد کی اکثریت کو بہت پسند آتے........
